چمن بارڈر پر پاکستانی اور افغان فورسز میں دوبارہ فائرنگ کا تبادلہ، تمام تعلیمی ادارے بند، پولیو مہم معطل
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب چمن بارڈر پر دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، فائرنگ کا سلسلہ صبح قریباً ساڑھے 11 بجے اس وقت شروع ہوا جب افغان فورسز نے مبینہ طور پر پاکستانی حدود کی جانب چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مؤثر فائرنگ کی، جس کے بعد کئی گھنٹے تک وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔
مزید پڑھیں: پاک فوج کا اسپن بولدک اور چمن سیکٹر میں بھرپور جواب، افغان طالبان نے جنگ بندی کی درخواست کر دی
ذرائع نے بتایا کہ چمن بارڈر پاک افغان تجارت اور آمدورفت کی ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں حالیہ ہفتوں میں مسلسل جھڑپوں کے باعث تجارتی سرگرمیاں اور نقل و حرکت متاثر رہی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ چمن کے مطابق، سرحدی صورتحال میں کشیدگی کے باعث تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے ہیں تاکہ طلبا و اساتذہ کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اسی طرح انسدادِ پولیو مہم بھی معطل کر دی گئی ہے، جب کہ سرحد پار آمد و رفت ایک بار پھر مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: میجر طفیل محمد شہید کا 67واں یوم شہادت، پاک فوج کا بھرپور خراج عقیدت
انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں گشت میں اضافہ کر دیا ہے۔ چمن شہر کے بازار اور کاروباری مراکز بھی بڑی حد تک بند ہیں، اور دکانداروں نے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر کاروبار معطل کر دیا ہے۔
دوسری جانب، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نیشنل یوتھ سمٹ کوئٹہ سے خطاب میں چمن بارڈر پر حالیہ جھڑپ میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان جنگ میں ہمارے نوجوانوں نے بہادری سے دشمن کو بھرپور جواب دیا ہے اور ہمیں ان پر فخر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپن بولدک اسکول بند بلوچستان پاک فوج.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپن بولدک اسکول بند بلوچستان پاک فوج فائرنگ کا گئی ہے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔