امریکی صدر نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر حماس جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دے دینگے۔ سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس نے اب تک 28 میں سے زیادہ تر قیدیوں کی لاشیں واپس نہیں کیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں فوج کو  حماس کو شکست دینے کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیدیا۔ اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے فوجی سربراہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ اس منصوبے پر عمل اسی صورت میں ہوگا، جب حماس صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کی شرائط پر عمل نہیں کرے گی۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی صدر کے منصوبے میں تمام ہلاک قیدیوں کی واپسی، حماس کا غیر مسلح ہونا اور غزہ کے اندر سرنگوں کو تباہ کرنا شامل ہیں۔ وزیر دفاع کاٹز نے کہا کہ اگر معاہدے پر مکمل عمل نہ کیا گیا تو وہ امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے اور  پھر حماس کا خاتمہ کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر حماس جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کرتی تو وہ اسرائیل کو غزہ میں دوبارہ فوجی کارروائی کی اجازت دے دیں گے۔ سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ حماس نے اب تک 28 میں سے زیادہ تر قیدیوں کی لاشیں واپس نہیں کیں۔ صدر ٹرمپ نے حماس کو معاہدے کی پاسداری کا پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جیسے ہی میں کہوں گا، اسرائیلی فوج دوبارہ غزہ کی گلیوں اور سڑکوں پر ہوگی اور اگر اسرائیل چاہے تو حماس کو اچھی طرح سبق سکھا سکتا ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیر دفاع نے کہا کہ حماس کو

پڑھیں:

غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس

حماس نے غزہ معاہدے کے حوالے سے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم نے پہلے مرحلے کی تمام شرائط مکمل طور پر پوری کر دی ہیں، جب کہ اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔

عرب میڈیا سے گفتگو میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ رفح میں محصور عسکریت پسندوں کے خلاف اسرائیلی اقدامات معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

حازم قاسم نے بتایا کہ حماس کے وفد کا قاہرہ کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک دوسرے مرحلے میں آگے بڑھنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اسلحہ حوالے کرنے کے معاملے پر حماس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف فلسطینی قومی مذاکرات اور داخلی مشاورت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ادھر اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر اسرائیلی قیادت میں اختلافات ابھر رہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کا صبر اسرائیل کے رویے سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام اس بات پر قائم ہیں کہ باقی ماندہ یرغمالیوں کی لاشیں ملنے تک وہ دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہوں گے، جب کہ رفح کی سرنگوں میں موجود حماس کے ارکان کا معاملہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

اسرائیلی چینل 14 کے مطابق امریکا کے طے شدہ شیڈول کے تحت جنوری کے وسط میں بین الاقوامی استحکام فورس کے غزہ کے علاقے رفح پہنچنے کا امکان ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج رفح میں بھاری مشینری داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل سے ریڈ کراس کے ذریعے 15 مزید فلسطینیوں کی لاشیں وصول کی گئی ہیں، جس کے بعد مجموعی تعداد 345 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ابھی تک 99 لاشوں کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ باقی کی دستاویزی کارروائیاں جاری ہیں۔ حماس نے بھی دو یرغمالیوں کی باقیات کی تلاش جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ نے وینیزویلا کی فضائی حدود مکمل بند کرنیکا اعلان کر دیا، جنگی کارروائی کا امکان
  • فوج غزہ بھیجنے کیلئے تیار، حماس کو کمزور کرنے کا حصہ نہیں بنیں گے: اسحاق ڈار
  • پاکستان فوج غزہ بھیجنے کیلئے تیار ہے لیکن حماس کو غیرمسلح کرنا ہمارا کام نہیں: اسحاق ڈار
  • پاکستان غزہ امن فورس کے لیے فوجی بھجوانے کو تیار، حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہو گا: اسحاق ڈار
  • اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنیکا دعویٰ
  • غزہ معاہدے کی مکمل پاسداری کی، اسلحہ حوالے کرنا قومی مذاکرات سے مشروط ہوگا: حماس
  • غیر مسلح ہونے کا فیصلہ قومی مذاکرات سے ہوگا، اسرائیل غزہ معاہدے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، حماس
  • سعودی ولی عہد کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے انکار پر ٹرمپ ناراض، اسرائیلی میڈیا
  • سعودی ولی عہد کے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے انکار پر ٹرمپ ناراض؛ اسرائیلی میڈیا
  • MBS کا اسرائیل سے تعلقات بحالی سے انکار، ٹرمپ ناراض؛ اسرائیلی میڈیا