کاکڑ قبیلے کا افغان جارحیت کے خلاف پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف جارحانہ رویے کے بعد کاکڑ قبیلے کے عمائدین نے پاک فوج اور ایف سی سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان آرمی کا افغان طالبان کے حملوں کا بھرپور جواب، اہم ٹھکانے تباہ
عمائدین نے کہا ہے کہ کوئی ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھے، ہم وطن کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ انہیں ملک کے دفاع میں عملی طور پر شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان کا چمن میں پاک افغان دوستی گیٹ کو تباہ کرنے کا جھوٹا پروپیگنڈا بےنقاب
عمائدین نے کہا کہ یہ مٹی ہماری ماں جیسی ہے، ہم کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کے اشارے کے منتظر ہیں، اور کسی بھی خطرے کے مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ISPR افغان طالبان ایف سی پاک فوج کاکڑ قبیلے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان ایف سی پاک فوج افغان طالبان
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔