پاراچنار، افغانستان کیجانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف قبائل کی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں طوری بنگش اقوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، قبائل ہر قسم کی بیرونی جارحیت کے خلاف صف اول میں ہونگے اور دفاع وطن کے لئے قبائل ماضی کی طرح ہمہ وقت حاضر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی اور افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف پاراچنار میں قبائل نے احتجاجی ریلی نکالی، شرکاء ریلی نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاکر پاک فوج کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق پاراچنار میں طوری بنگش قبائل نے افغانستان کی جانب سے جارحیت اور پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکا مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے پریس کلب پہنچے، جہاں شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے طوری بنگش قبائل کے عمائدین حاجی ضامن حسین، حاجی محمد یونس، ماسٹر امان علی، علامہ باقر حیدری نے افغانستان کے بلا اشتعال حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ افغانستان کی جانب سے ضلع کرم کے مختلف سویلین آبادی کو نشانہ بنانا قابل افسوس ہے، جس کی وہ بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں طوری بنگش اقوام افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، قبائل ہر قسم کی بیرونی جارحیت کے خلاف صف اول میں ہونگے اور دفاع وطن کے لئے قبائل ماضی کی طرح ہمہ وقت حاضر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغانستان کی کے خلاف
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں