Express News:
2026-07-24@07:24:35 GMT

افغان جارحیت

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مرتبہ پھر کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے خلاف بلااشتعال جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے باقاعدہ حملے کیے گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 11 اور12 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر حملہ کیا۔ پاک فوج نے دشمن کی بزدلانہ کارروائی کا بھرپور، بروقت اور منہ توڑ جواب دیتے ہوئے نہ صرف یہ کہ حملہ پسپا کر دیا بلکہ افغان طالبان کو بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا اور تقریباً 200 افغان طالبان اور فتنہ الخوارج ہلاک ہوگئے جب کہ پاک فوج کے 23 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔

پاک فوج نے افغانستان کے اندر ان اہداف کو نشانہ بنایا جہاں دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور داعش سے تعلق رکھنے والے شرپسند عناصر موجود تھے۔

پاک فوج نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے دفاع اور سالمیت پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور دشمن کو فوری، سخت اور کاری جواب دیا جائے گا۔ صدر، وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے افغانستان کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرنے پر پاک فوج کے جذبے کو سراہا اور یقین دلایا کہ پوری قوم پاک فوج کی پشت پر پوری قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاک افغان سرحدی کشیدگی اور افغان طالبان کی بلاجواز جارحیت پر سعودی عرب، قطر، ایران اور امارات نے گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ملکوں کی قیادت کو صبر و تحمل کا مشورہ دیا اور مذاکرات سے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔

افغانستان نے ایسے وقت میں پاکستان پر حملہ کیا جب افغان وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر تھے اور وہاں پاکستان مخالف بیانات دے کر بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے میں اس قدر آگے نکل گئے کہ مقبوضہ کشمیر کو جوکہ عالمی سطح پر ایک متنازعہ مسئلہ ہے بھارت کا حصہ قرار دے کر بھارت دوستی اور پاکستان دشمنی کا اظہار کیا جو سخت افسوس ناک اور ناقابل قبول طرز عمل ہے۔ پاکستان کی جانب سے اس کا بجا طور پر سخت نوٹس لیا گیا ہے۔

پاکستان سرکاری سطح پر متعدد مرتبہ افغان طالبان حکومت سے احتجاج اور مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے سے روکے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بار بار کی یاد دہانی کے باوجود طالبان حکومت نے دہشت گرد عناصر کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا نتیجتاً افغان سرزمین سے پاکستان کے ملحقہ سرحدی صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے مداخلت کار دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ وقفے وقفے سے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

پاک فوج کے جوان اور افسران اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کو ناکام بناتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ بات اب پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کو افغانستان کی حکومت نے پناہ دے رکھی ہے، جنھوں نے وہاں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ ترجمان آئی ایس پی آر نے بالکل درست کہا کہ طالبان حکومت نے نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر طالبان حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان اس خطرے کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔ ہم کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔

  افغانستان پاکستان کا نہ صرف پڑوسی ملک ہے بلکہ مسلم برادر ملک ہونے کے ناتے دونوں ملکوں کے درمیان دیرینہ و تاریخی رشتے موجود ہیں۔ طالبان حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ روسی مداخلت کے وقت 50 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین پاکستان آئے تھے اور آج تک ہم ان کی میزبانی کر رہے ہیں۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے دوحہ امن مذاکرات میں افغان طالبان کی پشت پناہی کی جب کہ بھارت نے افغانستان کی ماضی میں کسی بھی موقع پر کوئی مدد نہیں کی۔ آج طالبان حکومت پاکستان کے احسانات کا بدلہ جارحیت کی صورت میں دے رہی ہے جو حد درجہ تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے۔

طالبان حکومت کو اپنی روش پر نظرثانی کرنا چاہیے بھارت کے ساتھ دوستی کی قیمت پر پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی پشت پناہی سے مزید کشیدگی پیدا ہوگی، گیند اب افغانستان کے کورٹ میں ہے۔ پاکستان اپنے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ طالبان حکومت کو جلد یہ بات سمجھ لینی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے خلاف دہشت افغان طالبان فتنہ الخوارج طالبان حکومت افغانستان کے حکومت نے پاک فوج کے ساتھ

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا