پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن اور اماراتی کمپنی HUB47 کے درمیان بڑا معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
دبئی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2025ء) پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن اور اماراتی کمپنی HUB47 کے درمیان بڑا معاہدہ طے پا گیا، معاہدے کے بعد متحدہ عرب امارات میں کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں اور افراد کو معاونت فراہم کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق دبئی ٹریڈ سینٹر میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی ایکزیبیشن GITEX 2025 جاری ہے۔
اس سال پاکستان سے بھی 100 سے زائد کمپنیوں اور 1 ہزار سے زائد افراد کے وفد نے بھی اس ایکزیبیشن میں شرکت کی ہے۔ GITEX 2025 ایگزیبیشن کے دوران پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن(PASHA) اور اماراتی کمپنی HUB47 کے درمیان اہم مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہو گئے۔ اماراتی کمپنی HUB47 کے ڈائریکٹر شہباز کی جانب سے مفاہمتی یاداشت پر دستخط کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جو بھی ٹیک سٹارٹ اپس متحدہ عرب امارات آتے ہیں ان کیلئے یہاں کوئی باقاعدہ پلیٹ فارم میسر نہیں تھا۔(جاری ہے)
تاہم پاکستان میں پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن(PASHA) بہت ہی شاندار کام کر رہی ہے، پاکستان میں ان کا ٹیک ایکو سسٹم موجود ہے، اس لیے ان کے جو بڑے ٹیک سٹارٹ اپس ہیں انہیں ہم متحدہ عرب امارات میں سپورٹ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اس موقع پر پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن(PASHA) کے بورڈ ممبر عثمان اکبر کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن(PASHA) کے کل 1500 ممبرز ہیں، لوگ بہت زیادہ شکایت کرتے تھے کہ ملک سے باہر جانے پر سپورٹ اور گائیڈنز نہیں ملتی۔ تاہم اب پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن(PASHA) نے پہلی مرتبہ ملک سے باہر کوئی ایم او یو سائن کیا ہے۔ یہ ایم او یوHUB47 کے ساتھ سائن کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری سے جو بھی متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں قدم رکھنا چاہتا ہے، اسے HUB47 کی جانب سے مکمل سپورٹ اور گائیڈنز فراہم کی جائے گی۔ خاص کر پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن(PASHA) کے ذریعے پاکستان سے جو بھی متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں قدم رکھنا چاہے گا، اسے HUB47 کی جانب سے خصوصی ڈسکاونٹ بھی دیے جائیں گے۔ چئیرمین پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن(PASHA) نے بھی HUB47 کے ساتھ ہونے والے ایم او یو کو اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں نے آگے بڑھ کر اسٹریٹیجک سطح پر ایک معاہدہ کیا جس کی وجہ سے پاکستانی کمپنیوں کو بیرون ملک قدم جمانے اور آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان آئی ٹی انڈسٹری ایسوسی ایشن PASHA اماراتی کمپنی HUB47 کے متحدہ عرب امارات کی جانب سے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔