چلی: وزیر توانائی نے بجلی صارفین کو غلطی سے زیادہ بل بھیجنے پر استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
سانتیاگو:۔ جنوبی امریکی ملک چلی کے وزیر توانائی ڈیئیگو پارڈو نے بجلی صارفین کو غلطی سے زیادہ بل بھیجنے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ شنہوا کے مطابق چلی کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر گیبریئل بورک نے بجلی کے نرخوں کے تعین میں ملک گیر سطح پر ہونے والی سنگین غلطی کے بعد وزیر توانائی ڈییگو پارڈو کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔
ڈیئیگو پارڈو نے مقامی ریڈیو سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ انہیں دو ہفتے قبل نیشنل انرجی کمیشن کی جانب سے ایک رپورٹ موصول ہوئی، جس میں صارفین کے لیے بجلی کے نرخ مقرر کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے متواتر حساب میں غلطی کا انکشاف ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اضافی چارجز ہوتے تھے۔ یہ غلطی بجلی کے بلوں میں اضافے کا باعث بنی، جس نے ملک میں افراطِ زر (مہنگائی) کو مزید بڑھا دیا۔
وزیر توانائی کے مطابق یہ غلط نرخ 2017ءسے عوامی اور نجی دونوں اداروں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ چلی کی حکومت نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ وہ ان خاندانوں کو معاوضہ دے گی جن سے بل لیا گیا تھا۔ ڈیئیگو پارڈو کی جگہ اب موجودہ وزیر اقتصادیات، ترقی اور سیاحت الوارو گارشیا کو وزیر توانائی مقرر کیا گیا ہے، جو اب دونوں وزارتوں کی سربراہی کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: وزیر توانائی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔