27 اکتوبر کو بطور "یوم سیاہ" بھرپور طریقے سے منایا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
ذرائع کے مطابق انجینئر امیر مقام نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیریوں کی خواہشات کے منافی اور تقسیم برصغیر کے فارمولے کی صریحاً خلاف کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جما لیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ 27 اکتوبر کو ”یوم سیاہ“ کے طور پر منانے کیلئے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام کی زیر صدارت آزاد جموں و کشمیر کونسل اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ ذرائع کے مطابق انجینئر امیر مقام نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیریوں کی خواہشات کے منافی اور تقسیم برصغیر کے فارمولے کی صریحاً خلاف کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جما لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارتی قبضے سے آزادی کیلئے قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رقم کر رہے ہیں جس پر میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اب تک لاکھوں کشمیری شہید کیے ہیں اور اس نے اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے علاقے کو مکمل طور پر ایک فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس برس بھی 27 اکتوبر کو بطور یوم سیاہ بھرپور طریقے سے منایا جائے گا اور وزارت امور کشمیر نے اس حوالے سے ایک بھرپور لائحہ عمل مرتب کیا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے رہنما شیخ عبدالمتین نے اس موقع پر کہا کہ 27 اکتوبر جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ دن ہے جب بھارت نے کشمیریوں کی خواہشات پامال کرتے ہوئے ان کی سرزمین پر قبضہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں اور پاکستانیوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتی۔ شیخ عبدالمتین نے کہا کہ 27 اکتوبر کو آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں میں بھارت مخالف ریلیاں نکالی جائیں گی اور جلسے جلوس منعقد کیے جائیں گے اور بھارت کو یہ واضح پیغام دیا جائے گا کہ کشمیری اس کے غیر قانونی قبضے کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اجلاس میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کی قیادت، ایڈیشنل سیکرٹری امور کشمیر گلگت بلتستان کامران الرحمان خان کے علاوہ وزارتِ خارجہ، وزارتِ امورِ کشمیر، گلگت بلتستان، وزارتِ داخلہ، وزارتِ اطلاعات و نشریات، وزارتِ مواصلات، کابینہ ڈویڑن، وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، پی آئی اے، آئی سی ٹی، اسلام آباد پولیس، موٹروے پولیس، سی ڈی اے، ایم سی آئی اور تمام صوبوں بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اکتوبر کو بھارت نے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔