تل ابیب: اسرائیلی حکومت وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف کرپشن الزامات پر نظرثانی کے لیے ایک نیا بل پارلیمان (کنیسٹ) میں پیش کرنے جا رہی ہے، جسے آج متعارف کرایاگیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق حکومت آج سہ پہر بل کو کنیسٹ کے سرمائی اجلاس کے آغاز پر ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ بل اٹارنی جنرل گالی بہراو میارا کو ہٹا کر ایک نئے اسٹیٹ اٹارنی کی تقرری سے متعلق ہے، جس سے نیتن یاہو کے خلاف جاری کرپشن مقدمات پر نظرثانی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، یہ بل اگلے بدھ کو پارلیمان میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق گالی بہراو میارا نے ہمیشہ نیتن یاہو کے خلاف کرپشن ٹرائل روکنے کی مخالفت کی ہے، موجودہ قانونی مشیر اپنی اختیارات استعمال کر کے مقدمات معطل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، جبکہ حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ ان کے اختیارات کم کیے جائیں یا انہیں نئے قانونی ترامیم کے ذریعے تبدیل کیا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکمران اتحاد (لیکود، ریلیجیس صیہونیت، اور جیوش پاور) کی جماعتیں انتہا پسند شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈائزَم پارٹیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ وہ فوجی بھرتی سے متعلق متنازع بل کے باعث اپنا بائیکاٹ ختم کریں اور نئے قانون کی حمایت کریں۔

خیال رہےکہ  گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کنیسٹ میں خطاب کے دوران اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو کرپشن الزامات سے صدارتی معافی دیں، تاہم اسرائیلی قانون کے تحت کسی بھی شخص کو اعترافِ جرم کے بغیر معافی نہیں دی جا سکتی۔ نیتن یاہو نے تمام مقدمات میں جرم تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ نیتن یاہو کے خلاف تین بڑے کرپشن کیسز—کیس 1000، کیس 2000، اور کیس 4000—زیرِ سماعت ہیں، جن کی تفتیش رواں سال جنوری میں دوبارہ شروع کی گئی۔

کیس 1000 میں الزام ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہلِ خانہ نے امیر کاروباری شخصیات سے قیمتی تحائف کے عوض فوائد حاصل کیے۔

کیس 2000 میں معروف اخبار یدیعوت احرونوت کے مالک سے مثبت میڈیا کوریج کے بدلے مراعات دینے کا الزام ہے۔

کیس 4000 سب سے سنگین کیس سمجھا جاتا ہے، جس میں نیتن یاہو پر ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی بیزک کے مالک شاؤل ایلووچ کو فائدہ پہنچانے کے بدلے میڈیا میں اپنے حق میں خبریں شائع کروانے کا الزام ہے۔

نیتن یاہو، جن کا ٹرائل مئی 2020 میں شروع ہوا، اسرائیل کے وہ پہلے حاضرِ عہدہ وزیراعظم ہیں جنہیں بطور مجرمانہ ملزم عدالت میں پیش ہونا پڑا۔

مزید برآں ان پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات بھی ہیں، اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے نومبر 2024 میں ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے۔

عدالت کے مطابق، غزہ میں اکتوبر 2023 سے اب تک 68 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔

واضح  رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: نیتن یاہو کے خلاف

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان