آئی ایم ایف کی کرپشن پر رپورٹ، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی نہ ہونے پر سینیٹ کمیٹی حکومت پر برہم WhatsAppFacebookTwitter 0 3 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)سینیٹ خزانہ کمیٹی نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس سے متعلق آئی ایم ایف کی رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کردی اور اظہار برہمی کرتے ہوئے پوچھا کہ کرپٹ اداروں کیخلاف کیا کارروائی ہوئی؟۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اراکین نے آئی ایم ایف کی پاکستان میں بہت بڑی کرپشن سے متعلق رپورٹ پر بحث کی، اراکین نے رپورٹ میں بتائے گئے مختلف شعبوں میں سامنے آنے والے بڑے کرپشن اسکینڈلز پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔اراکین کمیٹی نے ایس آئی ایف سی کی کارکردگی، معاہدوں کے فقدان اور ملکی معاشی صورتحال پر بھی سخت تنقید کی۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ملک میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی ہے، جن اداروں کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے کیا ان کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے گی؟ ۔
وزارت خزانہ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ حکومت نے 2024 میں آئی ایم ایف کو گورننس میں بہتری کیلئے مدد میں درخواست دی اور حکومت نے رپورٹ کی سفارشات کی روشنی ایکشن پلان بنانے پر رضامندی ظاہر کی، رپورٹ جون 2025 میں ملنا تھی مگر تاخیر سے ملی وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ پر مشاورت کی آئی ایم ایف کو کچھ تبدیلیاں کرنے کو کہا گیا وزیراعظم کی منظوری کے بعد رپورٹ کو وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سلیم ایچ مانڈوی والا نے سوال اٹھایا کہ کیا وزارت خزانہ اس رپورٹ پر متفق ہے جس پر وزارت خزانہ نے بتایا کہ وزارت خزانہ اس رپورٹ سے متفق ہے۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال اٹھایا کہ کیا وزارت خزانہ رپورٹ میں مس مینجمنٹ، خراب گورننس اور کرپشن کے الزامات کو تسلیم کرتی ہے؟ سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ کیا وزارت خزانہ تسلیم کرتی ہے کہ 5300 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے وزارت خزانہ اس پر کیا ایکشن لے گی۔
وزارت خزانہ حکام نے کہا کہ رپورٹ میں نیا کچھ نہیں ہے انہیں چیزوں پر حکومت کام کر رہی ہے۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس رپورٹ میں سنجیدہ قسم کے الزامات لگائے گئے ہیں اور کیا وزارت خزانہ انہیں تسلیم کرتی ہے اس رپورٹ میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ بہت سنجیدہ قسم کے الزامات ہیں اس مسائل سے سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے زیادہ تر الزامات تو سیاست دانوں پر لگائے جاتے ہیں مگر رپورٹ صرف افسران کی خراب گورننس کی بات کرتی ہے۔وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ اس رپورٹ میں مسائل کی تشخیص کی گئی ہے رپورٹ کی سفارشات میں مسائل کا حل تجویز کیا گیا ہے ان سفارشات پر حکومت عمل درآمد کر رہی ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ایف بی آر افسران کی رشوت پر لڑائی ہوئی اور فائرنگ ہوئی مگر کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی جبکہ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ اس کیس کو دو سال ہوگئے اور اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ایک افسر نے حیدرآباد سکھر موٹروے کے اربوں روپے بینک سے نکل لیے اور کوئی کارروائی نہیں ہوئی، سی ڈی اے کا ایک افسر اربوں روپے کی کرپشن کر کے اڈیالہ جیل پہنچ گیا، اڈیالہ میں ڈیل ہوئی اور افسر اس سے بڑے عہدے پر تعینات ہوگیا، مافیاز حکومت چلا رہے ہیں۔چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کرپشن میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ رکن کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ تو آئی ایم ایف تھا کہ رپورٹ سامنے لانی پڑ گئی، سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کرپشن بڑھ رہی ہے اسے ختم کرنے کیلئے کیا کیا جا رہا ہے؟۔وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ 15 سفارشات پر عملدرآمد کرنے کا اتفاق کیا ہے جس پر رکن کمیٹی سینٹر عبدالقادر نے کہا کہ ای پیڈز سے پہلے ہی بولی طے ہو جاتی ہے۔
سینیٹر دلاور نے کہا کہ لاہور کے ایل ٹی او کے گزشتہ دو سال کے ریفنڈز دیکھ لیں ساری شفافیت سامنے آ جائے گی۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ اس طرح سسٹم نہیں چل سکتا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس ملک کا آوے کا آوہ بگڑ گیا ہے اس کو جڑ سے درست کرنا ہوگا۔حکام نے بتایا کہ اس سال ایس آئی ایف سی کی کارکردگی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری لائے گی۔سینیٹر شاہ زیب درانی نے کہا کہ ایس آئی ایف سی والے کہتے ہیں ٹیکس زیادہ ہے اس لیے سرمایہ کاری نہیں آسکتی جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ یہ اہم معاملہ ہے اس پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے بریفنگ لی جائے گی۔
کمیٹی کے اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ٹیکس تنازعات کے حل کیلئے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ہدایات دیں جس پر سلیم ایچ مانڈوی والا نے کہا کہ ہم نے ایف بی آر کو کئی مرتبہ کہا ہے کہ ٹیکس تنازعات پر مقدمہ بازی کی بجائے ثالثی سے حل کیا جائے ایف بی آر نے ہماری ہدایت پر کبھی عملدرآمد نہیں کیا سپریم کورٹ کی ہدایت پر ایف بی آر کام کرنے پر آمادہ ہوا۔ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلے ثالثی کا کام کمیٹی کا چیئرمین ایف بی آر اپنی صوابدید پر کرتا تھا اس پر کافی اعتراض تھا اور ثالثی کی طرف کم لوگ جاتے تھے ٹیکس دہندگان تین ریٹائرڈ ججوں کی فہرست ایف بی آر کو بھجوا دیں گے چیئرمین ایف بی آر ان میں سے کسی ایک کو چیئرمین کمیٹی منتخب کر سکیں گے اب اے ڈی آر سی 90 روز میں فیصلہ دیا کرے گی حکومتی کمپنیوں کو اے ڈی آر سی کے تحت اپیل کا حق دیا گیا ہے۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اے ڈی آر سی کا چیئرمین ہائی کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہونا چاہیے ہائیکورٹ کے جج کا ٹیکس اور کمرشل قانون کا تجربہ ہونا چاہیے۔سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ جب ریٹائرڈ جج لکھ دیا ہے تو تمام ریٹائرڈ ججوں کو چیئرمین بنانے کا اختیار ہونا چاہیے۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ایسا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ صرف ٹیکس اور کمرشل قانون کا تجربہ رکھنے والے جج ہی ان کیسوں کو دیکھ سکتے ہیں تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے متفقہ طور پر انکم ٹیکس تیسرا ترمیمی بل 2025 منظور کر لیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگلگت بلتستان کے صوبائی انتخابات کا شیڈول جاری، 24جنوری کو پولنگ گلگت بلتستان کے صوبائی انتخابات کا شیڈول جاری، 24جنوری کو پولنگ فیلڈ مارشل سے رائل سعودی لینڈ فورز کے کمانڈر کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال پی آئی اے نجکاری کیلئے بولی 23دسمبر کو ہوگی، ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائیگی، وزیراعظم تحریک انصاف کی سیاسی اور ٹیکنوکریٹ قیادت کے اختلافات شدت اختیار کرگئے جنرل سیکرٹری سی ڈی اے مزدور یونین چوہدری محمد یسین کے بھائی اکبرچوہدری محمد حنیف انتقال کر گئے ، نمازجنازہ ایچ ایٹ قبرستان میں.

.. چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنرکی ملاقات ، دوطرفہ شراکت داری اور تعاون کو فروغ دینے کے عزم... TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف کی کی کرپشن

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف