ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کیخلاف جوا ایپ تشہیر کیس میں اہم پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
لاہور: معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی۔رپورٹ کے مطابق غیر قانونی جوئے کی ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ عروب جتوئی کی عبوری ضمانت کی مدت ختم ہونے پر وہ عدالت میں پیش ہوئیں۔عدالت نے سماعت کے دوران عروب جتوئی کی عبوری ضمانت میں 6 نومبر تک توسیع کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ سماعت پر کیس سے متعلق جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔یاد رہے کہ ڈکی بھائی اور ان کی اہلیہ عروب جتوئی سمیت متعدد یوٹیوبرز پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک غیر قانونی آن لائن جوئے کی ایپ کی تشہیر کی، جس کے نتیجے میں شہریوں کو مالی نقصان پہنچا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کی اہلیہ عروب جتوئی عروب جتوئی کی ڈکی بھائی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔