کوہستان اسکینڈل میں اہم پیش رفت مرکزی ملزم کی اہلیہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور ( آن لائن ) کوہستان اسکینڈل کیس میں نیب کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مرکزی ملزم قیصر اقبال کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ ان کے گھر سے 14 ارب روپے مالیت کا سونا، قیمتی گاڑیاں اور دیگر قیمتی اثاثے برآمد ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گرفتار خاتون سمیت آٹھ ملزمان کو احتساب عدالتوں میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے تمام ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے۔تفتیشی افسر کے مطابق گرفتار خاتون پر اپنے شوہر قیصر اقبال کے ساتھ مل کر 34 ارب روپے کے غبن کا الزام ہے۔ عدالت نے خاتون کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
عرفان ملک:لاہور پولیس نے کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لاتے ہوئے رواں سال اب تک 5600 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے.
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق اقبال ٹاؤن ڈویژن میں کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر سب سے زیادہ 2132 ملزمان گرفتار کیے گئے، جبکہ صدر ڈویژن میں 1555 اور سٹی ڈویژن میں 1040 افراد کو حراست میں لیا گیا, شہر کے مختلف تھانوں میں 651 مقدمات کا اندراج بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ نے کہا ہے کہ کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے کرایہ داری رجسٹریشن انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر رجسٹرڈ کرایہ داروں کی آڑ میں جرائم پیشہ افراد پناہ لے سکتے ہیں، اس لیے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی اور غیر قانونی یا مشکوک افراد کو کرائے پر جگہ فراہم کرنے والے مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
بلال صدیق کمیانہ نے مکان مالکان، کرایہ داروں اور پراپرٹی ڈیلرز کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر کرایہ داری ایکٹ پر عملدرآمد یقینی بنائیں اور تمام ضروری کوائف متعلقہ پولیس ریکارڈ میں درج کروائیں تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔