WE News:
2026-07-24@01:25:56 GMT

ٹرمپ کا ہیرو کون؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT

اپنے آپ کو امن کا معمار بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے منفرد انداز اور بے باک بیانات کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ آئے روز ان کا کوئی نہ کوئی بیان دنیا کی سیاست میں ہلچل مچا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی ملک کے رہنما کو اپنا پسندیدہ قرار دے دیتے ہیں تو کبھی کسی کو پل بھر میں ہیرو سے زیرو بنا ڈالتے ہیں۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اصل میں ان کی پسندیدہ شخصیت کون ہے، کس کو وہ ہیرو مانتے ہیں اور اس ہیرو کے کارنامے کیا ہیں۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت سارے بیانات منظرِ عام پر آئے، جن میں انہوں نے ہمارے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کی اور انہیں اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل بھی کہا۔ اس سے قبل وہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں بھی اسی طرح کے بیانات دے چکے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ واقعی ان کو اپنا ہیرو اور دوست سمجھتے ہیں؟ جی نہیں، یہ سب محض باتیں ہیں۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا اصل دوست اور ہیرو کون ہے تو آپ ان کا حالیہ خطاب سنیں جو انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں کیا۔ انہوں نے غزہ جنگ بندی کو اپنی ایک عظیم سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے فخر و انبساط کے ساتھ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ہیرو اور فاتح کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس خطاب کو پاکستان کے تمام ٹیلیویژن اسکرینز پر براہِ راست دکھایا گیا۔

عالمی امن انعام کے خواہش مند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک ہیرو وہ ہے جس نے غزہ میں بچوں اور عورتوں سمیت لاکھوں افراد کو شہید کرنے کا پلان بنایا، جس نے فلسطین میں تاریخی نسل کشی کروائی اور لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔ امن انعام کے طلبگار کے نزدیک ہیرو وہ ہے جس نے عرب سرزمین پر ناجائز قبضہ جما کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر کا امن تباہ کر رکھا ہے۔

یہ سب تو ایک جگہ، اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’عظیم ترین جنگی رہنماؤں‘ میں سے ایک بھی قرار دے دیا۔ یہی نہیں، ٹرمپ نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ سے رشوت کے الزامات کو معمولی قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو کو معاف کرنے کی اپیل بھی کی۔ یعنی اپنے پسندیدہ شخص کے لیے کرپشن بھی ایک معمولی چیز ہے، جنگی جرائم اور غزہ میں انسانی تباہی تو کوئی معنی ہی نہیں رکھتی۔

نیتن یاہو کا کارنامہ یہ ہے کہ وہ امریکا سمیت اقوام متحدہ کی بھی کوئی بات نہیں سنتا۔ جب، جہاں جو دل کرتا ہے، بغیر کسی ڈر اور جھجک کے سرانجام دے بیٹھتا ہے۔ شام، اردن، ایران اور قطر پر حملوں کو ہی دیکھ لیں، ساری دنیا نے مذمت کی، امریکا نے روکا، لیکن نیتن یاہو نہیں رکا، یہی تو اس کی ’ہیرو پنتی‘ ہے۔

اس نام نہاد ہیرو کی جارحانہ حکمتِ عملی اور جنگی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3-4 ہفتے قبل یہ ہیرو پورے غزہ کو مٹانے کے مشن پر نکلا تھا۔ اگر آپ نے 2 برس کی غزہ جنگ کو تسلسل کے ساتھ فالو کیا ہو تو یاد ہوگا کہ غزہ پر چڑھائی کرتے وقت اس ہیرو نے اپنا ہدف حماس کا خاتمہ بتایا تھا۔ مگر جب حماس نے اسرائیلی فوج کے ہی چودہ طبق روشن کرنے شروع کیے تو یہ ہیرو سویلینز کے قتلِ عام پر اتر آیا۔

حماس کے خاتمے کا امکان دور دور تک نظر نہ آیا تو ایران پر چڑھائی شروع کر دی۔ جب وہاں بھی سبکی ہوئی اور ایران نے تل ابیب میں میزائلوں کی بوچھاڑ کی اور اگلے پچھلے حساب چکانے کی ٹھان لی تو ٹرمپ کے پیر پکڑ کر اس شوق سے بھی راہِ فرار اختیار کر لی۔

حالات یہ ہیں کہ اب ہیرو اور اس کے آقا دونوں اس قدر جلدی میں ہیں کہ اس معاہدے کے ابھی باقی 2 مراحل پر بات چیت ہوئی نہیں اور پہلے مرحلے کی بات چیت پر ہی پورا معاہدہ طے کر لیا گیا۔ اب جنگ بندی بھی ہو گئی، نیتن یاہو کی ساری باتیں بھی مان لی گئیں، البتہ بڑے رہنما اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار شہید تو ہو گئے لیکن حماس ختم نہیں ہو سکی۔

اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ ٹرمپ کا ہیرو ہی اصل ہیرو ہے یا وہ لوگ جو ابھی تک مزاحمت کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احسن ابرار خالد

الیکٹرانک اور نیو میڈیا میں خدمات سرانجام دینے والے ملٹی میڈیا جرنلسٹ ہیں۔ اسپورٹس، انویسٹیگیٹیو رپورٹنگ، ویڈیو اسٹوری ٹیلنگ، اور ڈیسک ایڈیٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

اسرائیل جنرل عاصم منیر حماس صدر ٹرمپ غزہ نیتن یاہو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل