دشمن بھی باوقار ہونا چاہیے
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
دشمن بھی باوقار ہونا چاہیے WhatsAppFacebookTwitter 0 17 October, 2025 سب نیوز
تحریر: محمد محسن اقبال
کیا کسی نے کبھی اس خیال کو اس سے زیادہ سادہ انداز میں بیان کیا ہے کہ دشمن بھی ایک شائستہ حریف کی اخلاقی قدروں کا مظہر ہونا چاہیے؟ تاریخ میں اس کی ایک لازوال مثال سکندرِ اعظم اور راجہ پورس کی مشہور ملاقات میں ملتی ہے۔ ایک سخت اور خونریز جنگ کے بعد جب سکندر نے شکست خوردہ پورس سے پوچھا کہ اس کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جائے، تو پورس نے جواب دیا: ”جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے سلوک کرتا ہے”۔
سکندر اس باوقار جواب سے متاثر ہوا، اس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی بلکہ اس کی سلطنت بھی واپس کر دی۔ دو بہادر اور اصول پسند حکمرانوں کے درمیان یہ واقعہ ہمیں اس سچائی کی یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت دھوکہ دہی یا فریب میں نہیں، بلکہ عزت، وقار اور شرافت میں ہے جس کے ساتھ کوئی اپنی دشمنی یا رقابت کو نبھاتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے دور میں یہ شرافتِ کردار مفقود دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں اپنے خطے میں ایسے ہمسائے کا سامنا ہے جو نہ تو جنگ کے اصولوں کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی پُرامن بقائے باہمی کے ضابطوں کو تسلیم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔”
(سورة المائدہ: 8)
یہ خدائی فرمان اس اخلاقی نظام کی بنیاد رکھتا ہے جس میں دشمنی بھی انسان کو عدل و انصاف سے غافل نہیں کر سکتی۔ لیکن جب ہم اپنے مشرقی پڑوسی کے رویے پر نظر ڈالتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہاں عدل و انصاف کی جگہ مکاری، دروغ گوئی اور جارحیت نے لے لی ہے۔
مئی 2025 کے واقعات اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہیں۔ جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھ کر کھلی جنگ میں تبدیل ہوئی تو بھارت کو میدانِ جنگ میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی تیاری، استقامت اور عزم نے دشمن کا غرور توڑ دیا۔ وہ ملک جو اپنے عسکری تفاخر پر نازاں تھا، جلد ہی عالمی فورمز پر جنگ بندی کی اپیلیں کرتا نظر آیا — ایک ایسا منظر جس نے اس کی اخلاقی اور عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔
قرآن کہتا ہے:
”بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
(سورة الانفال: 58)
اور مزید ارشاد ہے:
”اگر تم کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ رکھو تو ان کا معاہدہ برابری کے ساتھ ان پر پھینک دو۔ بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔
یہ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی ہمسایہ دھوکے اور غداری کا راستہ اپنائے تو مومن کو حق حاصل ہے کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ اس کا جواب دے — مگر ناانصافی کے بغیر۔
جب بھارت کو کھلی جنگ میں شرمناک شکست ہوئی تو اس نے اپنی پرانی روش اپناتے ہوئے پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ کا سہارا لیا — سرحد پار دہشت گردی، پراپیگنڈا مہمات، اور عالمی میڈیا میں پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوششیں۔ یہ وہ طریقے نہیں جو عزت دار قومیں اختیار کرتی ہیں؛ یہ ان کی پہچان ہیں جو اندھیرے میں وار کرتے ہیں کیونکہ وہ دن کی روشنی میں مقابلے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ اپنے کردار میں ضبط اور اخلاقی وقار کو برقرار رکھا ہے۔ ہم نے کبھی بزدلانہ حربے نہیں اپنائے اور نہ ہی جارحیت پر فخر کیا۔ ہماری صبر و تحمل کو کمزوری سمجھنا نادانی ہوگی، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ امن طاقت کی غیر موجودگی نہیں، بلکہ طاقت پر قابو پانے کا نام ہے۔
پاکستان کا جواب ہمیشہ پُرسکون مگر پرعزم رہا ہے — اصولوں پر مبنی، ایمان سے منور، اور قربانی سے گُزرا ہوا۔ ہمارا یقین ہے کہ امن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔”
(سورة الانفال: 61)
مگر جب ہمارا ضبط بزدلی سمجھا جائے، اور ہماری امن کی کوششوں کو خوف قرار دیا جائے، تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام ہمیں اپنے دفاع کا حکم دیتا ہے:
”اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن پر ظلم کیا گیا ہے کہ وہ لڑیں، کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے، اور بے شک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔”
(سورة الحج: 39)
لہٰذا پاکستان کو حق حاصل ہے کہ وہ اس زبان میں جواب دے جو دشمن سمجھتا ہے — وقار کے ساتھ، فیصلہ کن انداز میں، اور عزم و ایمان کے ساتھ۔ ہماری مسلح افواج نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے، دوسروں کو ذلیل نہیں کرنا چاہتے، مگر وہ اپنی خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کریں گے۔ مئی کے زخم ابھی تازہ ہیں، مگر وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ضبط بھی ایک قوت ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ حقیقی عظمت فتوحات میں نہیں، بلکہ ان اقدار میں ہے جو انسان جنگ کے دوران قائم رکھتا ہے۔ نبی اکرم ۖ نے جنگ میں بھی غیر جنگجوؤں کو قتل کرنے، کھیتیاں برباد کرنے اور معاہدے توڑنے سے منع فرمایا۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے وہ اخلاقی ضابطہ متعارف کرایا جس نے انسانیت کو جنگ کے دوران بھی وقار بخشا۔ پاکستان کا امن اور انصاف کے لیے استقامت پر مبنی مؤقف اسی اخلاقی روایت کا تسلسل ہے۔
ہم دنیا اور اپنے دشمن دونوں کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر ایسا امن جو انصاف اور باہمی احترام پر قائم ہو۔ ہم نہ تو جارحیت کریں گے، نہ ذلت برداشت کریں گے۔ اور اگر ہمیں جواب دینا پڑا، تو ہم وہی کریں گے جو ایمان، شرافت اور عزت کا تقاضا ہے۔
قرآن کا وعدہ ہے:
”بے شک تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔”
(سورة الشرح: 6)
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اخلاق کے بغیر فتح عارضی ہے، اور اصولوں کے بغیر طاقت خطرناک۔ سکندر اور پورس کا مکالمہ آج بھی اس لیے زندہ ہے کہ اس نے جنگ کو کردار کی آزمائش میں بدل دیا۔ ہمیں بھی اپنی جدوجہد اسی جذبے کے ساتھ کرنی ہے — کہ ہم دفاع کریں بغیر نفرت کے، لڑیں بغیر ظلم کے، اور فتح حاصل کریں بغیر غرور کے۔
نبی کریم ۖ نے فرمایا:
”طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے۔”
(صحیح بخاری)
اللہ کرے کہ ہماری قوت ضبط میں رہے، ہمارا ایمان اٹل رہے، اور ہمارا مقصد پاکیزہ رہے — تاکہ تاریخ جب ان دنوں کو لکھے تو یہ کہے کہ پاکستان عزت کے ساتھ کھڑا رہا، طاقت میں محتاط رہا، اور مقصد میں راست باز۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک افغان کشیدگی کم کرنےکیلئے تمام وسائل استعمال کریں گے: ایرانی صدر پاکستان کا دل اسلام آباد شہید زندہ ہیں، قوم جاگتی رہے ننھی آوازیں، بڑے سوال: بچیوں کا دن، سماج کا امتحان موبائل ۔ علم کا دوست اور جدید دنیا یومِ یکجہتی و قربانی: 8 اکتوبر 2005 – ایک عظیم آزمائش اور عظیم اتحاد کی داستان اب ہم عزت کے قابل ٹھہرےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔