افغانستان کے ساتھ معاملات کے حل کیلئے سفارتی چینل کامیاب نہیں ہوا،وزیو اعظم
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
افغانستان کے ساتھ معاملات کے حل کیلئے سفارتی چینل کامیاب نہیں ہوا،وزیو اعظم WhatsAppFacebookTwitter 0 17 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان سر زمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں میں افغان شہریوں کا ملوث ہونا تشویشناک ہے۔وزیراعظم شہباز کی زیر صدارت افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی پر اعلی سطح اجلاس ہوا، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزرا، وزیراعظم آزاد کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی موجود تھے جب کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی کینمائندے اور وفاقی و صوبائی اعلی حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں خوارج کی در اندازی روکنے کی سفارتی و سیاسی اقدامات کے ذریعے بھرپور کوشش کی گئی، دہائیوں سے مشکلات میں گھرے افغانستان کی پاکستان نے ہر مشکل وقت میں مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحق ڈار، وزیردفاع خواجہ آصف، اعلی حکومتی عہدیدار، متعدد بار افغانستان کے دورے پر گئے، افغان نگران حکومت کو پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سر زمین کے استعمال کو روکنے کے لیے مذاکرات کیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں خوارج کی در اندازی روکنے کی سفارتی و سیاسی اقدامات کے ذریعے بھرپور کوشش کی، پاکستان کے بہادر عوام، جنہوں نے دہشتگردی کی جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں،
ہم سوال کرتے ہیں کہ حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے گی؟شہباز شریف نے گزشتہ روز وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے بتایا کہ میں نے وزیراعلی کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور وفاق کی جانب سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، وفاق خیرپختونخوا کے عوام کی فلاح و ترقی کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان آج قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات ہوں گے، افغان وفد کی قیادت وزیر دفاع ملا یعقوب کریں گے جبکہ پاکستان کی جانب سے سینئر سیکیورٹی حکام شرکت کریں گے۔
یاد رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کر دی تھی۔طالبان سرحدی فورسز کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں افغان سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں بھاری لڑائی میں مصروف رہیں۔کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند کے طالبان حکام نے بھی جھڑپوں کی تصدیق کی تھی، اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی مارے گئے اور عسکری گروہ مثر اور شدید جوابی کارروائی کے باعث پسپا ہو گئے تھے۔قبل ازیں افغان وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں، یہ کارروائیاں نصف شب ختم ہوئیں، اگر مخالف فریق نے دوبارہ افغان سرزمین کی خلاف ورزی کی تو ہماری افواج بھرپور جواب دیں گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیلی پابندیاں دفن یرغمالیوں کی لاشیں نکالنے میں رکاوٹ ہیں: حماس اسرائیلی پابندیاں دفن یرغمالیوں کی لاشیں نکالنے میں رکاوٹ ہیں: حماس پرائیویٹ حج سکیم کے تحت رجسٹریشن کی تاریخ میں 22 اکتوبر تک توسیع پنجاب میں ٹی ایل پی پر پابندی لگا دی گئی ; سمری وفاق کو ارسال کردی پنجاب میں مذہبی جماعت کی 40 مساجد محکمہ اوقاف کے حوالے عدالت نے ملک ریاض کا مال آف اسلام آباد ضبط کرنے کا حکم دے دیا جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کے کیس کی سماعت کرنے والا ڈویژن بینچ تبدیلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان کے کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔