اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ اب بال افغانستان کے کورٹ میں ہے،  افغانستان کے ساتھ جائز شرائط پر بات چیت کے لیے تیار  ہیں۔

 وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان اور افغانستان کی طویل مشترکہ سرحد ہے، پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود افغان پناہ گزینوں کی بھرپور  میزبانی کی، 40 لاکھ افغان دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں، ہم نے بھائی چارےکے رشتےکو قائم و دائم رکھا ہے، افغان دہشت گرد ہماری پولیس اور افواج پاکستان کے جوانوں اور عام شہریوں کو شہید کر رہے ہیں،2018میں دہشت گردی ختم ہوگئی تھی پھر کیسے دہشت گرد واپس آئے ؟ 2018 کے بعد کی حکومت نے دہشت گردوں کو واپس لاکر بسایا۔وزیراعظم شہباز شریف نےکہا کہ بد قسمتی سے چند روز قبل پاکستان کی افواج پر فتنہ الخوارج نے حملہ کیا، حالیہ واقعات کے بعد صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا، نائب وزیر اعظم،وزیر دفاع اور دیگر افسران نے بارہا کابل کا دورہ کیا، افغان حکام سے بھی یہ کہا کہ ہم چاہتے ہیں خطے میں امن و ترقی کا دور دورہ ہو، بدقسمتی سے تمام کاوشوں کے باوجود افغانستان نے امن کو ترجیح نہ دی اور جارحیت کا راستہ اپنایا۔

پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ ، انتہا پسند جماعت کیخلاف شکنجہ تیار ،وفاقی حکومت سے کیاسفارش کی جائے گی ؟ جانیے

 ان کا کہنا تھا کہ جب حملہ ہوا تو  افغانستان کے  وزیر خارجہ دہلی میں بیٹھے تھے، پاکستان پر یہ حملہ بھارت کی شہ پر ہوا، ہمیں مجبوراً بھرپور جوابی کارروائی کرنی پڑی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے منہ توڑ جواب دیا ہے، اب بال افغانستان کے کورٹ میں ہے، افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کی گئی، دوست ممالک خاص طور پر قطر اس معاملےکو طے کرانےکی کوشش کر رہا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیز فائر ٹھوس شرائط پر لمبی بھی ہوسکتی ہے لیکن اگر مہلت کے لیے ایسا کیا گیا تو اس کی اجازت نہیں دیں گے، افغانستان کے ساتھ جائز شرائط پر بات چیت کےلیے تیار ہیں، افواج پاکستان نے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے خوارجیوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے۔غزہ کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  کچھ لوگ غزہ کے معاملے پر سیاست کرنا چاہ  رہے تھے،  غزہ میں ہوئے مظالم کی عصر حاضر میں مثال نہیں ملتی، غزہ میں معصوم بچوں کا خون بہ رہا تھا تنقید کرنے والے اس وقت کہاں تھے؟ میری جگہ خود کو رکھ کر سوچیں کیا آپ غزہ جنگ بند کرانے والے کو سلام نہ کرتے، غزہ میں جنگ بندی میں اہم کردار میں صدر ٹرمپ اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں، غزہ جنگ بندی میں پاکستان نے اپنا فرض ادا کیا،  شرم الشیخ میں معاہدہ ہوا ، غزہ میں لوگوں نے خوشی منائی، فلسطینی جنگ بند ہونے پر اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے، اس جنگ کو بند کرانے والے کا شکریہ ادا نہ کیا جائےگا؟

پاک افغان سیز فائر پر چین کارد عمل بھی سامنے آگیا

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ  فلسطین کی ریاست قائم ہونی چاہیے، فلسطین کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور آواز اٹھاتے رہیں گے۔ آئی ایم ایف کا اسٹاف لیول معاہدہ ہونے پر اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں، آئی ایم ایف کا  یہ پروگرام آخری ہونا چاہیے، وقت آگیا ہے قرضوں سے جان چھڑائیں، یہ کٹھن راستہ ہے دن رات محنت کرنا ہوگی،  جب ملک اقتصادی طور پر ترقی کرےگا تو  آواز میں وزن ہوگا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ افغانستان کے شہباز شریف کے لیے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع

سٹی 42:  کفایت شعاری اقدامات میں  نائب وزیر اعظم نے  مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی

کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔

تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ