وزیراعظم شہباز شریف کا افغانستان کے حالیہ حملے پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے پاکستان پر حالیہ حملے اور خوارج کی دراندازی کی کوششوں کا ساتھ دینے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہائیوں سے مشکلات میں گھرے افغانستان کی پاکستان نے ہر مشکل وقت میں مدد کی۔
انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، اعلیٰ حکومتی عہدیدار متعدد بار افغانستان کے دورے پر گئے، افغان نگران حکومت کو پاکستان میں دہشتگردی کیلئے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے سے متعلق مذاکرات کیے، پاکستان نے افغانستان سے پاکستان میں خوارج کی دراندازی روکنے کی سفارتی و سیاسی اقدامات کے ذریعے بھرپور کوشش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان سے دو ہزار کلو میٹر کا بارڈر شیئر کرتا ہے، اپنے محدود وسائل کے باوجود 40 لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، پاکستان اور افغانستان کی طویل مشترکہ سرحد ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں، اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ عوام ہم سے سوال کرتے ہیں حکومت کب تک افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے گی، صوبائی حکومتیں، وفاقی و صوبائی ادارے پاکستان میں غیر قانونی افغان باشندوں کی جلد وطن واپسی یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا پاکستان پر حالیہ حملہ، خوارج کی پاکستان میں دراندازی کی کوششوں کا ساتھ دینا تشویشناک امر ہے، پاکستان کی بہادر افواج نے اس حملے کا بھرپور انداز سے جواب دیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے افغانستان کے حملوں کو پسپا کیا، مجھ سمیت پوری قوم فیلڈ مارشل کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواج پاکستان بھارتی جارحیت کے دوران ثابت کر چکی کہ ہماری افواج اپنی وطن کا دفاع کرنا جانتی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور انہیں مبارک باد دی، وفاق کی جانب سے وزیراعلیٰ کے پی کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، وفاقی حکومت عوام کی فلاح و ترقی کیلئےصوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔
اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزراء، وزیرِاعظم آزاد کشمیر، پنجاب، سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ شریک ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے شرکاء کا خیر مقدم کیا، اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شریک نہیں ہوئے، ان کی نمائندگی مزمل اسلم نے کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف افغانستان کے پاکستان میں پاکستان نے فیلڈ مارشل نے کہا کہ
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔