پاک افغان کشیدگی کم کرنےکیلئے تمام وسائل استعمال کریں گے،ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے فروغ اورتعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام وسائل استعمال کرے گا -مسعود پزشکیان نے حالیہ پاک افغان جھڑپوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ممالک تنازعات اور تقسیم کو مسترد کرتے ہیں،اس طرح کی بےامنی مسلم دشمنوں اور بین الاقوامی سازشوں کا نتیجہ ہے، خطےکو پہلے سے کہیں زیادہ امن، ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت ہے -ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان نئے سرے سےکشیدگی نے ایران سمیت خطے میں موجود دیگر ممالک میں تشویش پیدا کردی ہے، مشترکہ جڑوں اور ثقافت والی مسلم قومیں عقیدے اور ثقافت کا اٹوٹ رشتہ رکھتی ہیں -ایرانی صدر نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی حکومتیں اور عوام اپنے اختلافات کو حکمت کے ذریعے حل کریں گے،مسلم قوموں کو امن، انصاف اور ترقی کو آگے بڑھانےکے لیے مل کرکام کرنا چاہئے-
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔