استنبول میں ایرانی اپوزیشن کارکن فائرنگ سے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول (انٹرنیشنل ڈیسک) استنبول میں ایرانی اپوزیشن کارکن کو گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ مسعود نظری کو ارناؤوط کوئی کے علاقے میں ان کے گھر واپس آتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ مقامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مسعود نظری ایک ایرانی کارکن تھا جو اپنے ملک کے نظام پر تنقید کرتا تھا۔ ایران سے باہر مقیم انسانی حقوق کی تنظیم ہالفش کے مطابق مقتول ایک کرد ایرانی شخص تھا جو مغربی ایران کے صوبہ کرمانشاہ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ 10 سال قبل ایران سے ترکیہ فرار ہوکر آیا تھا۔ تنظیم نے مقول کے ایک خاندانی فرد کے حوالے سے بتایا کہ اسے ایرانی سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔