اسرائیل اور امریکہ ہمیں شکست دینے کی طاقت نہیں رکھتے، شیخ نعیم قاسم
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
بیروت میں سکاؤٹس کے اجتماع میں 74,475 نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کی موجودگی کو لبنانی قوم کی طاقت اور ایمان کی علامت قرار دیتے ہوئے سربراہ حزب اللہ نے کہا کہ یہ اجتماع مزاحمت کی راہ پر قوم کے اتحاد اور استحکام کا پیغام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ غاصب اسرائیل اور مجرم امریکہ ہمیں کبھی شکست نہیں دے سکیں گے کیونکہ ہمارا وطن شہداء کے خون سے رنگا ہوا ہے۔ شیخ نعیم قاسم نے بیروت میں امام مہدی (ع) کے اسکاؤٹس کے ملک گیراجتماع کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ لبنان امریکہ اور صیہونی طاقتوں کی جارحیت اور سازشوں کے مقابلے میں کھڑا ہے۔ انہوں نے بیروت سکاؤٹس کے اجتماع میں 74,475 نوعمر لڑکوں اور لڑکیوں کی موجودگی کو لبنانی قوم کی طاقت اور ایمان کی علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ اجتماع مزاحمت کی راہ پر قوم کے اتحاد اور استحکام کا پیغام ہے۔ شیخ نعیم قاسم نے فلسطینی کاز کے لیے اپنی حمایت کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کھڑا رہے گا اور یروشلم اب بھی حق کا راستہ ہے، ہماری منزل اور مقصد خیر خواہی، علاقائی وقار اور انسانیت کی فلاح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔