data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا نے روس پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ پابندیاں روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں، روسنیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر لگائی گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ گفتگو کے دوران ان پابندیوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن بہت اہم ہے کیونکہ روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں پر پابندیاں لگانا ایک مضبوط پیغام ہے کہ امریکا آئندہ کیا کرنے جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بائیڈن کے دورِ حکومت میں شروع ہوئی، اور وہ اسے ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، یہ نئی پابندیاں پیوٹن کو مزید ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کریں گی۔

پیوٹن سے ملاقات منسوخ کرنے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت ملاقات کرنا مناسب نہیں تھا، اسی لیے ملاقات منسوخ کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ روس یوکرین جنگ تقریباً چار برس سے جاری ہے، جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوچکی ہیں، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک امن کی طرف بڑھیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے بھی بات کریں گے تاکہ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ اور پاک بھارت تنازع سمیت سات بڑی جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا، اور انہیں امید ہے کہ روس یوکرین جنگ بھی جلد ختم ہوجائے گی۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ روس

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا