ہم مولانا فضل الرحمان کو ناراض نہیں کرسکتے ؛ طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
سٹی 42: طلال چوہدری نے کہا ہم مولانا فضل الرحمان کو ناراض نہیں کرسکتے ۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ہم مولانا صاحب کو ناراض نہیں کرسکتے وہ پاکستان کا اثاثہ ہیں ان کی جب بھی تجویز آتی ہے ہم انہیں اور ان کی تجویز کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چاہے ہم حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہوں ۔
واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نےحکومت کو تجویز دیتے ہوئے بتایا تھا کہ علما اور مدارس کے خلاف پروپیگینڈا کیا جارہا ہے ۔قانون بن چکا ہے تو پھر مدارس کے اکاونٹ بن جانے چاہیے۔وزارت تعلیم کے تحت مدارس کی رجسٹریشن کیوں کروائی جارہی ہے۔
بالی ووڈ کے مشہور ترین مزاحیہ اداکار انتقال کر گئے
دینی مدارس ہر تحریک کا مرکز ہیں مگر ریاست کو مدارس کے بارے میں گمراہ کیا جارہا ہے ۔علم کو جدید اور عصری علوم میں تقسیم کرنا انگریز کا کام ہے ،مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم ضروری ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا آج ہماری یونیورسٹیوں کالجوں میں پڑھنے والوں کو قرآن و حدیث کا نہیں پتا ،دینی مدارس کے طلبہ دنیاوی تعلیم کا امتحان بھی دے رہے ہیں اور بورڈ ٹاپ کرتے ہیں ۔ مدارس کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے مدارس کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ پہلے پانچ وفاق المدارس پر اعتراض تھا اب درجن بھر کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔
سوشل میڈیا پر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو سنگین دھمکیاں دینےوالا گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان مدارس کے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔