خیبر پختونخوا میں انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں، 34 خوارج ہلاک، آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں 13 سے 15 اکتوبر 2025 کے دوران انٹیلی جنس اطلاعات پر مبنی کامیاب کارروائیاں کیں، جن میں بھارتی ایجنسیوں کے زیرِ اثر فتنہ "الخوارج" سے تعلق رکھنے والے 34 دہشت گرد مارے گئے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے سپین وام میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 18 خوارج جہنم واصل کیے گئے۔
اسی طرح ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جنوبی وزیرستان میں کیا گیا، جہاں مقابلے کے دوران 8 خوارج مارے گئے۔
ججز پر میڈیا سے بات کرنے پر پابندی لگا دی گئی
تیسری جھڑپ ضلع بنوں میں ہوئی جہاں سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے مزید 8 خوارج کو انجام تک پہنچا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقوں میں صفائی (sanitization) کے آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرستی یافتہ خارجی کو چھپنے کا موقع نہ مل سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں "عزمِ استحکام" کے تحت جاری انسدادِ دہشت گردی مہم کا حصہ ہیں، جسے نیشنل ایکشن پلان کے فریم ورک کے مطابق وفاقی ایپکس کمیٹی نے منظور کیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں مکمل عزم اور رفتار کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :