پاک امریکا تعلقات خطے اور عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہیں، رضوان سعید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی مستقبل کی خارجہ پالیسی ماحولیاتی تحفظ اور معاشی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ایک وجودی بحران (Existential Crisis) قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سفارت کاری اب معیشت اور ماحولیات دونوں کے تقاضوں کے مطابق ڈھل رہی ہے۔
پاک امریکا تعلقات خطے کے امن کے لیے ناگزیرفیوچر سیکیورٹی فورم 2025 میں خطاب کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات خطے اور عالمی امن کے لیے ’انتہائی اہم‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سفارت کاری، استحکام اور عملی معاشی ایجنڈے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں، پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ دنیا کے دو بڑے ممالک، امریکا اور چین کے درمیان تعلقات محض ترجیح نہیں بلکہ ضرورت ہیں، کیونکہ ان کے تعلقات میں توازن عالمی امن کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کے کردار کا اعترافانہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا جن کی کوششوں سے گزشتہ ماہ 88 گھنٹے طویل تنازع کا خاتمہ ممکن ہوا۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایک ایٹمی خطے میں بڑی کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ’اہم موڑ‘ ثابت ہوا۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نے ملک میں بار بار تباہ کن سیلاب، بادل پھٹنے اور دیگر قدرتی آفات کے ذریعے ترقی کے سفر کو بارہا متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ہم 2 یا 3 سال میں تعمیر کرتے ہیں، وہ سیلاب بہا لے جاتا ہے، لیکن قرض ہمیں بہرحال واپس کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مرکز پائیداری (Sustainability) اور خود انحصاری (Self-Sufficiency) ہے۔
کشمیر تنازع کا حل خطے کے امن کی کنجیرضوان سعید شیخ نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ثالثی کی تجدید دعوت دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اسی مسئلے کے منصفانہ حل سے ممکن ہے۔
چین، افغانستان اور متوازن خارجہ پالیسیانہوں نے کہا کہ پاکستان ’کیمپ سیاست‘ سے دور رہتے ہوئے دنیا بھر کے ساتھ متوازن تعلقات چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کل کے نہیں اور نہ کل ختم ہونے والے ہیں۔
انہوں نے سی پیک (CPEC) کو علاقائی رابطے اور معاشی ترقی کا منصوبہ قرار دیا۔
افغانستان کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی سے شدید متاثر ہوا ہے مگر وہ لڑائی نہیں بلکہ بات چیت کا حامی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صرف غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی باعزت طریقے سے کی جا رہی ہے اور پاکستان ویزا کی بنیاد پر سرحدی نقل و حرکت چاہتا ہے۔
پاکستان کا عالمی کرداراختتامی کلمات میں سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے, بطور ’اقتصادی پل‘ جو بڑی طاقتوں کے درمیان تعاون اور امن کو فروغ دے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا پاکستان چین رضوان سعید شیخ ماحولیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاکستان چین رضوان سعید شیخ ماحولیات نے کہا کہ پاکستان رضوان سعید شیخ نے امن کے لیے انہوں نے
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔