پاک فضائیہ کی بنیاد رکھنے میں پولینڈ کا اہم کردار ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاک فضائیہ کی بنیاد رکھنے میں پولینڈ کا اہم کردار ہے۔
پولینڈ کے نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ رادوسواف شکورسکی کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ نائب وزیراعظم پولینڈ کے دورۂ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تاریخی اور منفرد تعلق قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پولینڈ کو اپنا اہم شراکت دار سمجھتا ہے، وفود کی سطح پر مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق ہوا، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور تعاون کے فروغ کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پولینڈ کے وزیر خارجہ رادوسواف شکورسکی کا استقبال کر کے مسرت ہوئی، یہ ان کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، ان کےلیے یہ خطہ اجنبی نہیں ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ علاقائی روابط کا فروغ اجتماعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے دوسری جنگ عظیم میں ہزاروں پولش مہاجرین کو پناہ دی، پولش ایئر فورس افسر نے پاک فضائیہ میں خدمات سرانجام دیں۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج باہمی تعاون اور آئی ایس ایس آئی اور پولش انسٹی ٹیوٹ کے درمیان تعاون پر مفاہمتی یادشتوں پر بات ہوئی۔ رادوسواف شکورسکی کا دورہ پاک پولش تعلقات میں بہتری کے لیے سنگ میل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فتنہ الخوارج کے پاکستان پر حملوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔
شاندار میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں: نائب وزیراعظم پولینڈپریس کانفرنس کے دوران نائب وزیراعظم پولینڈ رادوسواف شکورسکی نے کہا کہ شاندار میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مفید بات چیت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ تجارت، معیشت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔ معدنیات اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی، پاکستان اور پولینڈ کے درمیان تعاون کی یادداشتوں پر دستخط خوش آئند ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت غزہ میں امن چاہتے ہیں، پولینڈ مستحکم اور پُرامن جنوبی ایشیا کا خواہاں ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان اور پولینڈ کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہوئی جس میں پاکستان اور پولینڈ کے نائب وزرائے اعظم نے شرکت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان اور پولینڈ کے رادوسواف شکورسکی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اسحاق ڈار کے درمیان نے کہا کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔