پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صدر ہائی کورٹ بار ملتان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں صرف ایک ووٹ آیا اور وہ بھی ہمیشہ کی طرح امریکہ کا تھا۔ 14 ووٹ فلسطینی مظلوموں اور شہدا کے حق میں پڑے، جو پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا ثبوت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صدر ہائی کورٹ بار ملتان حبیب اللہ شاکر نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ کسی صورت عوامی نہیں کہلا سکتا۔ ایک حقیقی عوام دوست بجٹ وہی ہوتا ہے جس میں تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے کے لیے وافر رقم مختص کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مزدوروں کی کم از کم اجرت میں کم از کم 50 فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ مہنگائی کے طوفان میں پسے ہوئے طبقات کو ریلیف دیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پیپلزلائر فورم کے کوارڈینیٹر نشید عارف گوندل، نائب صدر جنوبی پنجاب زوار حسین قریشی، پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیئر نائب صدر منظور حسین قادری، سیکرٹری اطلاعات یاسین چوہدری، سابق سیکرٹری اطلاعات جاوید اقبال انصاری، نائب صدر پی پی ملتان ڈویژن نعیم شہزاد، صدر تاجر ونگ پی پی صدیق تھہیم بھی ان کے ہمراہ تھے، حبیب اللہ شاکر نے مزید کہا کہ منافع بخش اداروں کی نجکاری کے ذریعے معیشت کی سمت درست نہیں کی جا سکتی، اور آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو من و عن تسلیم کر کے ملکی خودمختاری کو گروی رکھنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوست ممالک سے  امداد یا ری شیڈول قرضے لے کر وقتی سہارا ضرور لیا جا سکتا ہے، مگر پائیدار معیشت کے لیے یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ پی آئی اے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، پی ڈبلیو ڈی، یوٹیلٹی اسٹورز اور دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری سے معیشت کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا۔ ملک کو صرف اسی صورت معاشی بحران سے نکالا جا سکتا ہے جب ہم دولت کی غیر منصفانہ تقسیم ختم کریں اور غریبوں کے مسائل کو ترجیح دیں۔ حبیب اللہ شاکر نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے لیکن اس کا فائدہ پاکستانی عوام تک نہیں پہنچ رہا۔ آئی پی پیز کے ساتھ غیر منصفانہ معاہدے ختم کر کے بجلی سستی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب تک گھریلو صارفین کو 7 روپے 41 پیسے، کمرشل صارفین کو 7 روپے 51 پیسے، اور صنعتی صارفین کو 7 روپے 72 پیسے فی یونٹ رعایت دینے کا کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری نے جس دانشمندی اور دلیری سے پاکستان کا مقدمہ دنیا کے سامنے رکھا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ بھارت کی جانب سے کی جانے والی جارحیت اور اسے ملنے والی عبرتناک شکست کو عوام کے سامنے لانا قابل ستائش عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں صرف ایک ووٹ آیا اور وہ بھی ہمیشہ کی طرح امریکہ کا تھا۔ 14 ووٹ فلسطینی مظلوموں اور شہدا کے حق میں پڑے، جو پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کو اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کو امن کا داعی قرار دینے کے بجائے صرف شکریہ تک محدود رہنا چاہیے تھا کیونکہ ویٹو کر کے امریکہ نے عوام دشمنی کا کھلا ثبوت دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حبیب اللہ شاکر کے حق میں انہوں نے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل