data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تلہار(نمائندہ جسارت) تلہار روزنامہ جسارت نمائندہ تلہار سید کاشف حسین زیدی کی عیادت کے لیے جماعت اسلامی تلہار کا وفد ان کی رہائشگاہ تشریف لایا وفد میں شامل ظائف جونیجو امیر تحصیل تلہار، حاجی اکبر جونیجو امیر شہر تلہار، عبدالحق انصاری پبلک ایڈ کمیٹی، عباداللہ تھیبو صدر یوتھ تلہار،انہوں کاشف زیدی کی عیادت کی اور جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی سینئر صحافی نے جماعت اسلامی کے وفد کی ان کی عیادت کے سلسلے میں تشریف لانے پر ان سے اظہار تشکر کیا.

تفصیلات کے مطابق. لگ بھگ تین ماہ قبل روزنامہ جسارت کے تلہار کے نمائندہ سید کاشف حسین زیدی کو سول اسپتال تلہار میں ڈاکٹر کی غفلت کے باعث غلط انجکشن لگنے کی وجہ سے چہرے پر لقوہ ہوگیا تھا جسکی وجہ سے ان کا چہرہ کان اور آنکھ شدید متاثر ہوا تھا جنہیں فوری طور پر علاج کے لییکراچی لے جایا گیا تھا 25 روز کراچی میں زیر علاج رہنے کے بعد سینئر صحافی اپنے گھر واپس آئے لیکن کسی سیاسی سماجی تنظیم نے ان کی خیریت دریافت نہیں کی جماعت اسلامی تلہار واحد سیاسی جماعت ہے جو ان کی عیادت کو پہنچی جس پر سینیئر صحافی نے ان سے اظہار تشکر کیا امیر تحصیل تلہار جناب ظائف جونیجو نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے سماج کی خدمت کرنے والا اتنا سینیئر صحافی آج بے یارو مددگار ہے اور اس کے کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کسی سیاسی سماجی تنظیم نے اس کی مدد کرنا تودو کی بات ہے انسانیت کے ناطے عیادت تک نہیں کی ہمیں اس بات کا حددرجہ افسوس ہے کہ ہم بھی بروقت عیادت کو نہیں پہنچ سکے ۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کی عیادت

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی