ترقی کا بیانیہ ، کانگریس رہنما نے مودی کے بیانیے کی دھجیاں اڑا دیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی (آن لائن) آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ایم وی راجیو گوڑا نے مودی حکومت کے ترقیاتی بیانیے کو سخت تنقید کا نشانہ بنا تے ہوے بی جے پی کے 2024 کے منشور سمیت سابقہ وعدوں اور بیانات کو بے بنیاد قرار دے دیا ۔ انہوں نے بی جے پی کے منشور پر مبنی دستاویز ایک اور بار جملہ سرکار کا تنقیدی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کے 11 سال کے جھوٹے وکاس کے دعوے عوام سے دھوکا ہیں۔راجیو گوڑا نے کہا کہ مودی حکومت کا مقامی دفاعی پیداوار کا دعویٰ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور بھارت اب بھی اپنی دفاعی ضروریات کے 40 فیصد سے زائد حصے کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشن موڈ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن پروجیکٹ کے تحت 55 منصوبوں میں سے 23 تاخیر کا شکار ہیں۔ معاشی حوالوں سے بھی راجیو گوڑا نے مودی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بھارت کی ترقی صرف 6.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مودی حکومت انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔