مودی حکومت کا تیسرا دور بھی ناکام، ملک کو کمزور اور لاچار بنایا گیا، سنجے راؤت
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
مودی حکومت پر ملک کو کمزور اور لاچار بنانے کا الزام لگاتے ہوئے شیو شینا کے مرکزی لیڈر نے کہا کہ خارجہ پالیسی سے لیکر انفراسٹرکچر تک ہر محاذ پر حکومت ناکام رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیو سینا کے سینیئر لیڈر سنجے راوت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو سخت تنقید کی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مودی حکومت کی تیسرے مدت کار کے پہلے سال کو ناکام قرار دیا اور خارجہ پالیسی، سیکورٹی اور انفراسٹرکچر پر سنگین سوالات اٹھائے۔ سنجے راوت نے کہا کہ مودی کا تیسرا دور شروع ہو چکا ہے لیکن پہلے سال میں کچھ خاص نہیں ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی کی نمبر کی سیاست 240 سیٹوں پر پھنس گئی اور ان کے دیگر منصوبے بھی ادھورے رہ گئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ 10 سالوں میں ملک کی سمت اور حالت خراب ہوگئی ہے، اس سال 26 خواتین کا سندور اجڑا، لیکن مودی خاموش ہیں۔ سنجے راوت نے کہا کہ پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا، لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے مودی حکومت پر ملک کو کمزور کرنے کا الزام لگایا۔ سنجے راوت نے کہا کہ 70 سالوں میں ملک نے ایسی لاچاری نہیں دیکھی جو مودی کے دور میں دیکھنے کو ملی، ملک چھوٹے چھوٹے ممالک اور کینیڈا کے سامنے گھٹنے ٹیک رہا ہے۔
انہوں نے خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر برباد قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان کو چین، روس، ترکی، آذربائیجان، امریکہ، آئی ایم ایف اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے سپورٹ کیا جبکہ بھارت اس کا جواب دینے میں ناکام رہا۔ سنجے راوت نے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے مطالبہ کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ شیو سینا نے پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے اقدامات کا جواب دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے بیرون ملک بھیجے گئے وفود کو سیاسی ایوینٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی مرکزی وزراء اور وفد کے ارکان سے ملاقات کریں گے اور ان کی رائے لیں گے۔ مودی حکومت پر ملک کو کمزور اور لاچار بنانے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی سے لے کر انفراسٹرکچر تک ہر محاذ پر حکومت ناکام رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خارجہ پالیسی ملک کو کمزور سنجے راوت نے مودی حکومت نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔