متنازعہ پرینک ویڈیو بنانے پر معروف ٹک ٹاکر کو پابندی کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
لاس اینجلس میں مقیم معروف ٹک ٹاکر نٹالی رینالڈز کو ٹک ٹاک سے بین کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے ذہنی طور پر بیمار اور بے گھر خاتون کو 20 ڈالر دینے کا جھانسہ دے کر جھیل میں کودنے پر مجبور کیا۔ حالانکہ وہ جانتی تھیں کہ خاتون تیرنا نہیں جانتیں۔ جب وہ خاتون پانی میں کود گئیں تو نیٹلی موقع سے فرار ہو گئیں اور بعد میں آسٹن کی فائر بریگیڈ اور پیرامیڈکس نے اس عورت کو پانی سے نکالا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انفلوئنسر نے دعویٰ کیا کہ یہ اسٹنٹ ’اسکینجر ہنٹ‘ کا حصہ تھا، لیکن ویڈیو میں انہیں خاتون کے مدد کے پکارنے کے باوجود وہاں سے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا۔ حالانکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھی جھیل میں چھلانگ لگائیں گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اور دوسری جانب خاتون نے پانی میں جاتے ہی چیخ کر کہا کہ وہ تیرنا نہیں جانتیں۔
‼️TikToker Natalie Reynolds was banned from TikTok for deceiving a mentally ill homeless woman into jumping into a lake, by promising her $20.
Austin fire dept/paramedics had to pull her out of the water. pic.twitter.com/1N3RnnU48t
— i Expose Racists & Pedos (@SeeRacists) June 9, 2025
سوشل میڈیا صارفین اس واقعے پر شدید ناراض ہوئے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جس کے بعد انہیں ٹک ٹاک سے بین کر دیا گیا۔ ٹک ٹاک سے بین ہونے کے بعد کانٹینٹ کریئیٹر نٹالی رینالڈز کو ٹک ٹاک کے لاس اینجلس ہیڈکوارٹر کے باہر پریشان حالت میں دیکھا گیا۔
26 سالہ انفلوئنسر عمارت کے شیشے کے دروازوں سے فون کال کے دوران بات کرنے کی کوشش کرتے ہوئے واضح طور پر افسردہ نظر آئیں، اور اطلاعات کے مطابق وہ اپنے معطل شدہ اکاؤنٹ کی بحالی کی کوشش کر رہی تھیں۔
ٹک ٹاکر نٹالی رینالڈز نے اپنے اکاؤنٹ پر پابندی کی وجہ دوسرے کریئیٹرز کی پیشہ ورانہ حسد کو قرار دیا، لیکن کئی آن لائن تبصرہ نگاروں کا ماننا ہے کہ پابندی کی اصل وجہ حالیہ واقعے پر ہونے والا ردعمل ہے۔
واضح رہے کہ نٹالی رینالڈز نے 2022 میں لپ سنک اور ڈانس ویڈیوز کے ذریعے شہرت حاصل کی، اور بعد میں اپنے بوائے فرینڈ زیکری ہیولسمین کے ساتھ پرینک ویڈیوز اور کولیبریٹو اسکیٹس بناتے ہوئے یوٹیوب پر 5.6 ملین سبسکرائبرز اور انسٹاگرام پر 133,000 فالوورز حاصل کر لیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹک ٹاک ٹک ٹاک بین ٹک ٹاکر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک ٹک ٹاک بین ٹک ٹاکر ٹک ٹاکر ٹک ٹاک
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔