پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچا کر ترقی کے راستے پر ڈالنا وزیراعظم کا بڑا کارنامہ ہے: مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
مریم اورنگزیب— فائل فوٹو
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچا کر ترقی کے راستے پر ڈالنا وزیراعظم کا بڑا کارنامہ ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کو اپنی حکومت کا دوسرا وفاقی بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد دی ہے۔
انہوں نے عوام دوست اور ریلیف پر مبنی بجٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ، تنخواہ داروں پر ٹیکسوں میں کمی حکومت کا بڑا ریلیف ہے، تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ انکم ٹیکس میں ریلیف سے دوہرا ریلیف دیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے صحافی واک آؤٹ کر گئے۔
ان کا کہنا ہے کہ قومی اور عوامی ضروریات اور عالمی ذمہ داریوں میں توازن کا بجٹ ہے، ایک سال میں آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود مہنگائی اور پالیسی ریٹ میں کمی معجزہ ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بجٹ میں صنعت کا پہیہ چلانے کی سمت اور پلان موجود ہے، عالمی مالیاتی ادارے بھی حکومت کی کارکردگی کا اعتراف کر رہے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود عوام دوست بجٹ لانا بڑی کامیابی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔