مشکل کام آسان ہوگیا:روبوٹ آپ کی گاڑی پارک کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنوبی کوریا کی مشہور آٹو کمپنی ہیونڈائی نے پارکنگ کا ایسا زبردست حل نکالا ہے جو مستقبل کی جھلک پیش کرتا ہے ۔ جی ہاں، اب گاڑی کو انسان نہیں، خود روبوٹس پارک کریں گے!
ہیونڈائی نے ایسی چپٹی اور لوہے کی پلیٹیں متعارف کروا دی ہیں جو زمین پر بچھی ہوتی ہیں۔ جیسے ہی گاڑی پلیٹ پر آتی ہے، یہ خود بخود گاڑی کے نیچے آتی ہے، پورے کی پوری گاڑی کو پہیوں سمیت اٹھاتی ہے اور مخصوص پارکنگ جگہ تک آرام سے پہنچا دیتی ہے۔
ان پلیٹوں میں LiDAR، کیمرے اور QR کوڈ اسکینر لگے ہوئے ہیں۔ یعنی جیسے ہی کوئی گاڑی آتی ہے، یہ فوراً پہچان لیتے ہیں کہ کون سی گاڑی ہے اور اسے کہاں لے کر جانا ہے۔ اس کی رفتار بھی کمال ہے یعنی 1.
ہر پلیٹ 2.2 ٹن وزن اٹھا سکتی ہے، مطلب SUV گاڑیاں بھی ان کے لیے معمولی بات ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایک ساتھ 50 روبوٹ پلیٹیں کام کر سکتی ہیں۔
یہ سسٹم جنوبی کوریا کے سیونگسو دفتر اور سنگاپور انوویشن سینٹر میں کامیابی سے کام کر رہا ہے۔ پارکنگ کی جگہ کم ہو یا جلدی ہو، یہ روبوٹس سب کچھ خود سنبھالتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وقت بچاتی ہے بلکہ غلط پارکنگ اور جگہ کے ضیاع جیسے مسائل کا بھی مکمل خاتمہ کر دیتی ہے۔ بس گاڑی لے کر آئیں اور باقی کام روبوٹس پر چھوڑ دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔