اینٹی کرپشن کورٹ خیبر پختونخوا آصف رشید کی عدالت میں گندم اسکینڈل کے حوالے سے درخواست پر سماعت شروع کی تو اس دوران پراسیکوٹر اینٹی کرپشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سرکاری گودام میں ملازم تھے۔ اسلام ٹائمز۔ اسپیشل جج اینٹی کرپشن کورٹ خیبر پختونخوا آصف رشید نے گندم اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث محکمہ خوراک کے تین ملازمین کی عبوری ضمانت درخواستیں خارج کردی اور تینوں ملازمین کو کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا گیا۔  اینٹی کرپشن کورٹ خیبر پختونخوا آصف رشید کی عدالت میں گندم اسکینڈل کے حوالے سے درخواست پر سماعت شروع کی تو اس دوران پراسیکوٹر اینٹی کرپشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سرکاری گودام میں ملازم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے دیگر ساتھیوں سے مل کر گندم کی ہزاروں بوریاں غبن کی اور سرکاری خزانے کو  کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔

پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اینٹی کرپشن نے اسکینڈل کی انکوائری کی اور انکوائری رپورٹ کے بعد دیگر ملزمان سمیت موجودہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا کیونکہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ عدالت کو انہوں نے بتایا کہ اس اسکینڈل میں دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں بھی مسترد ہوئی ہیں لہٰذا عدالت ملزمان کو عبوری ضمانت نہ دے۔

اینٹی کرپشن عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عبوری ضمانت درخواست خارج کر دی اور ضمانت کی درخواست خارج ہوتے ہی تینوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے حراست میں لیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گندم اسکینڈل اینٹی کرپشن کہ ملزمان بتایا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف