پنجاب ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل، سروسز کے معیار کو بلندیوں تک لے جائیں گے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب میں پاکستان کے پہلے اور مثالی ورچوئل بلڈ بینک سنٹرقائم کر دیا گیا ہے۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن 15پر کال کر کے ورچوئل بلڈ بینک سنٹر سے مریض درکارخون کوفوری طور حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کرنے کے بعد 4 کا بٹن دبانے پر کال فوراً ورچوئل بلڈ بینک سے منسلک ہوجائے گی۔ ورچوئل بلڈ بینک پرڈیوٹی سیف سٹی آفیسر مریض کی لوکیشن اور بلڈ گروپ کے بارے میں انفارمیشن حاصل کرتا ہے۔ بلڈ ڈونر ہیلپ لائن 15، سیف سٹی آفیشل ویب سائٹ یا سرکاری ہسپتالوں میں قائم پولیس خدمت کاونٹر پر رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ ورچوئل بلڈ بینک پر روزانہ بلڈ کے حصول کے لئے 2500 لوگ رابطہ کرتے ہیں۔ روزانہ 250 مریضوں کی بلڈ کی اشد ضرورت کو فوری طورپر پورا کرنے کا انتظام ہوگا۔ ورچوئل بلڈ بینک میں رجسٹرڈ بلڈ ڈونرز کی تعداد 25ہزار سے زائد ہے۔ ورچوئل بلڈ بینک کے ڈونرز میں 10ہزار پولیس اہلکار اور 15ہزار عام شہری ہیں۔ پنجاب بھر میں 24/7سروس فراہم کی جارہی ہے اور 14ہزار سے زائد مریض مستفید ہوچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے شہریوں بالخصوص نوجوانوں کو بلڈ ڈونیشن کے کارخیر میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کاکہنا ہے کہ ضرورت کے وقت خون کا ہر قطرہ قیمتی ہے۔ ہر قطرہ کسی ضرورت مند کے لئے زندگی کی نوید بن سکتا ہے۔ پنجاب ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور میں داخل ہوچکاہے، سروسز کے معیار کو بلندیوں تک لے کر جائیں گے۔ مریم نواز شریف نے انٹرنیشنل ڈے آف پلے ’’International Day of Play‘‘پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہنستا کھیلتا بچہ خوشی کی علامت ہے۔ بچوں کا کھیلنا محض تفریح نہیں، ذہنی، جذباتی اور تخلیقی نشوونما کی بنیاد ہے۔ ہر بچے کو نہ صرف تعلیم بلکہ کھیلنے، سیکھنے اور بے فکری سے مسکرانے کا حق حاصل ہے۔ افسوس کہ کشمیر اور فلسطین کے بچے کھیل سمیت دیگر تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ نواز شریف سینٹر آف ایکسی لینس فار ارلی چائلڈہوڈ ایجوکیشن میں کھیل کے ذریعے بھی بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ ایسا ماحول اورمعاشرہ بنا رہے ہیں جہاں ہر بچہ محفوظ، آزاد اور کھیلنے، سیکھنے و بڑھنے کے مساوی مواقع سے فیض یاب ہو۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرکٹر ثناء میر کو آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کرکٹر ثناء میر کے لئے نیک خواہشات کا اظہارکیا اور کہا کہ ثناء میر کا آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل ہونا پاکستان کی ہر بیٹی کی جیت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ورچوئل بلڈ بینک مریم نواز شریف شریف نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔