جوہری عدم پھیلاؤ کی خلاف ورزی پر ایران کیخلاف انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی یعنی آئی اے ای اے نے ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
یہ قرارداد امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے پیش کی گئی، جسے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز نے بند کمرہ اجلاس میں منظور کیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق 19 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، 3 نے مخالفت کی، جب کہ 11 اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے جوہری طاقت بننے کا خواب پورا نہیں ہونے دیں گے، صدر ٹرمپ
ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق درکار تعاون میں کمی کرتے ہوئے ضروری معلومات فراہم نہیں کررہا، یہ پہلا موقع ہے کہ گزشتہ 20 سال میں ایران کو اس نوعیت کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون کرے اور جوہری سرگرمیوں سے متعلق شفاف معلومات فراہم کرے، ایران نے اس قرارداد کو سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:جوہری پروگرام بند نہیں ہوسکتا، اسرائیل نہ بتائے ہمیں کیا کرنا ہے، ایران
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ایران کے ساتھ امریکا کے جاری جوہری مذاکرات پر اثرانداز ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر ایران پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ایران جوہری پروگرام جوہری عدم پھیلاؤ رکنی بورڈ آف گورنرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ایران جوہری پروگرام جوہری عدم پھیلاؤ رکنی بورڈ آف گورنرز انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔