ایک تقریب میں اپنے ایک خطاب کے دوران امریکی نمائندے کا کہنا تھا کہ جس طرح جوہری ایران، اسرائیل کے وجود کیلئے خطرہ ہے اسی طرح امریکہ کیلئے خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ رویٹرز نے ایک امریکی عہدیدار کا حوالے دیتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اتوار کو بالواسطہ مذاکرات کا چھٹا دور عمان میں ہوگا۔ امریکہ کی نمائندگی "اسٹیو ویٹکاف" اور ایرانی مذاکراتی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" کریں گے۔ اس راؤنڈ میں امریکی پیش کردہ تجاویز پر ایران کے جواب پر بات ہو گی تا کہ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ تاہم اس سارے طے شدہ شیڈول کے باوجود، امریکی نمائندے اسٹیو ویٹکاف نے گزشتہ شب ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف بات کرتے ہوئے دباؤ بڑھانے اور مذاکراتی عمل کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے نیویارک میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ میں نے قبل ازیں صیہونی وزیراعظم "نتین یاہو" سے گفتگو کی، جس میں یہ موقف اپنایا گیا کہ امریکہ کو کسی صورت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تا کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح جوہری ایران، اسرائیل کے وجود کے لئے خطرہ ہے اسی طرح امریکہ کے لئے خطرہ ہے۔ اسٹیو ویٹکاف نے مزید کہا کہ ہمیں (امریکہ + اسرائیل) محکم طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جا سکے، چاہے اس کے لئے کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔ انہوں نے اپنے مزید بے بنیاد دعووں کو دُہراتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس بڑی مقدار میں میزائلوں کا ہونا بھی ایک جوہری خطرہ سے کم نہیں۔ جو امریکہ، آزاد دنیا اور خلیج فارس کے تمام ممالک کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسٹیو ویٹکاف ایران کے خطرہ ہے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار