مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ؟ امریکا نے غیر سفارتی عملہ واپس بلانے کی اجازت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
واشنگٹن: امریکا نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے پیش نظر اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دے دی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق وزیر دفاع نے اس فیصلے کی منظوری دی ہے تاکہ فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجودہ سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) خطے میں موجود اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
مزید یہ کہ امریکا نے بحرین اور عراق سے بھی اپنے غیر سفارتی عملے کو انخلا کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ تاہم امریکی حکام نے سکیورٹی خدشات کی مخصوص وجوہات ظاہر نہیں کیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے، تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔