data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ /تل ابیب /واشنگٹن /پیرس /اسٹاک ہوم (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی فوج کی جانب سے منگل کی صبح سے جاری حملوں میں اب تک 37 فلسطینی شہید اور 200 سے زاید زخمی ہوگئے۔ صیہونی فوج نے غزہ بھر میں ڈرون، ہیلی کاپٹر اور ٹینکوں سے براہ راست حملے کیے، اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹے میں 120 فلسطینی شہید، 474 زخمی کر دیے۔ طبی ذرائع کے مطابق ان میں سے 19 افراد اس وقت شہید ہوئے جب وہ غزہ شہر کے جنوب میں نیٹزاریم کوریڈور کے قریب ایک اسرائیل کی حمایت یافتہ امدادی مرکز پر جمع تھے۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی ڈرونز نے امداد کے حصول کے لیے جمع عوام پر فائرنگ کی، جس سے موقع پر ہی کئی افراد جان کی بازی ہار گئے۔ مزید 12 افراد شمالی غزہ کے علاقے جبالیا میں اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ خان یونس میں ایک بے گھر خاندان کے خیمے پر بمباری میں ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ دیر البلح میں گھروں اور ریڈ کریسنٹ کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے مزید تین فلسطینی شہید ہو گئے۔وفا نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ڈرونز نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر سموک بم بھی گرائے۔ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست اب امریکی پالیسی کا حصہ نہیں ہے اور فلسطینی ریاست کے لیے کسی مسلم ملک سے زمین نکالی جا سکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی سفیر نے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست اب امریکی خارجہ پالیسی کا ہدف ہے۔تاہم امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے اسرائیل میں امریکی سفیر کے اس بیان پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس بیان کی کوئی وضاحت نہیں کروں گی، میرے خیال میں انہوں نے ذاتی رائے کا اظہار کیا ہے۔بلومبرگ کو دیے گئے انٹریو میں امریکی سفیرمائیک ہکابی کا مزید کہنا تھا کہ جب تک کچھ نمایاں تبدیلیاں نہ ہوں جو کلچر کو بدل دیں، اس وقت تک اس (فلسطینی ریاست) کی کوئی گنجائش نہیں ہے، غالباً یہ تبدیلیاں ’ہماری زندگی میں نہیں ہوں گی‘۔ غزہ پر جاری اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لیے دنیا بھر کے 50 ممالک سے انسانی حقوق کے کارکنوں سمیت دیگر ہزاروں افراد نے مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح بارڈر کی طرف مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ‘غزہ گلوبل مارچ’ کے عنوان سے شروع کی گئی اس تحریک کا پہلا قافلا جو تقریباً 1000 افراد پر مشتمل ہے، تیونس سے روانہ ہونے کے بعد گزشتہ روز لیبیا پہنچا تھا۔ تیونس سے نکلنے والے قافلے کے منتظمین کا بتانا ہے کہ یہ قافلہ شمالی افریقا کی 5 ریاستوں تیونس، الجزائر، مراکش، موریطانیہ اور لیبیا سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ امریکا نے فلسطینیوں کو امداد پہنچانے والے کئی خیراتی اداروں اور افراد پر پابندیاں عاید کردیں۔ رپورٹ کے مطابق 12 جون کو یہ قافلہ جب مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے گا تو وہاں دنیا بھر کے 50 ممالک سے ہزاروں لوگ جمع ہونگے جس کے بعد مصر اور غزہ کے درمیان واقع رفح بارڈر کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسرائیل نے غزہ ڈیل توڑنے کے بعد سے ہی (جسے کئی ماہ گزر گئے) غزہ کا محاصرہ کررکھا ہے جس کے باعث لوگوں کے پاس کھانے پینے کی اشیا کا ذخیرہ بھی ختم ہوچکا ہے۔ معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ اس نے انہیں اور دیگر امدادی کارکنوں کو بین الاقوامی پانیوں سے اغوا کر کے زبردستی اسرائیل منتقل کیا۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 22 سالہ گریٹا نے پیرس کے چارلس ڈیگال ائر پورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اور دانستہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جو اسرائیل کی طویل فہرست میں شامل ہو گئی ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں پارلیمنٹ تحلیل کرنے سے متعلق اپوزیشن کے بل پر آج ووٹنگ ہوگی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ووٹنگ میں بل کو اکثریت حاصل ہوئی تو اسے نافذ ہونے کے لیے مزید 3 مرتبہ ووٹنگ کے مرحلے سے گزرنا ہوگا جس کے بعد کنیسٹ کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کی تاریخ طے ہوسکے گی۔اس کے برعکس اگر اپوزیشن بل پر اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تو اسے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے متعلق دوسرا بل پیش کرنے کے لیے کم از کم 6 ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔ خبررساں ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کے اتحادیوں نے بھی ملک میں قبل از وقت انتخابات کے لیے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ موجودہ حکومتی اتحاد کے پاس 68 نشستیں ہیں جبکہ اقتدار میں رہنے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے اتحادیوں پر اس قانون کی حمایت سے باز رہنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے تاہم قدامت پسند یہودیوں کے فوج میں لازمی سروس کے قانون کی منظوری کے بعد حکومتی اتحاد میں شامل کچھ جماعتیں نتین یاہو سے نالاں ہیں۔

غزہ: بھوک سے بلکتے بچے امدادی کیمپ میں خوراک کے حصول کے لیے چیخ و پکار کررہے ہیں

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی ریاست فلسطینی شہید کے مطابق کے بعد کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم