بھارت میں طیارہ حادثہ، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر ن لیگ نواز شریف کا اظہارِ افسوس
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
حادثے میں تباہ ہونے والے بھارتی مسافر بردار طیارے کا ملبہ جائے حادثہ پر بکھرا ہوا ہے—تصویر بشکریہ بھارتی میڈیا
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سابق وزیرِ اعظم اور صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف نے بھارت میں طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہارکیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں پیش آنے والا طیارہ حادثہ دلخراش سانحہ ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریفنے طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ تعزیت بھی کیا ہے۔
بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں حادثے کا شکار ہونے والی ایئر انڈیا کی پرواز میں 2 پائلٹ کیپٹن سُمیت سبروال اور فرسٹ آفیسر کلائیو کندر سوار تھے۔
سابق وزیرِ اعظم اور صدر مسلم لیگ ن میاں نواز شریف نے بھی بھارت میں طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
جاری کیے گئے بیان میں نواز شریف نے طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ المناک سانحہ سرحدوں سے بالاتر ہو کر ہماری مشترکہ انسانیت کا احساس دلاتا ہے۔
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے طیارہ حادثے پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بھارتی عوام سے تعزیت کا اظہار بھی کیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے طیارے میں سوار تمام 242 افراد ہلاک ہو گئے۔
بھارتی شہر احمد آباد میں مسافر طیارہ گر کرتباہ، طیارے میں 242 مسافر سوار تھے۔
طیارے نے لندن کےلیے اُڑان بھری تھی کہ حادثے کا شکار ہو گیا، طیارہ ڈاکٹروں کے ہاسٹل کی عمارت پر گرا ہے، مسافر طیارے میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق حادثے کا شکار طیارے میں 169 بھارتی، 53 برطانوی، ایک کینیڈین اور 7 پرتگالی مسافر سوار تھے، جن میں 11 بچے بھی شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف نواز شریف نے طیارہ حادثے طیارے میں بھارت میں کا اظہار سوار تھے کیا ہے
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔