اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث افراط زر 4 فیصد تک جبکہ پالیسی ریٹ 11 فیصد پر آ گیا ہے، جو معاشی بہتری کی علامت ہے۔

ترقیاتی بجٹ سے متعلق اسلام آباد میں اہم پریس کانفرنس میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اب حکومت ٹھوس بنیادوں پر ترقی کی بنیاد رکھ رہی ہے، اور اس کے لیے ٹیکس ریونیو اور برآمدات میں اضافہ ضروری ہے۔

سابق حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ 2022 میں جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا، تو ترقیاتی بجٹ کے لیے ایک روپیہ بھی موجود نہیں تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت پاکستان کو داخلی طور پر ڈیفالٹ کی حالت میں چھوڑ گئی تھی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ آخری سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم موجود نہیں تھی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ “آج جو لوگ تنقید کر رہے ہیں، اگر وہ اتنے قابل تھے تو ایسے حالات پیدا ہی کیوں ہوئے؟” ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے آتے ہی ترقیاتی بجٹ کو دوبارہ فعال کیا اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اہم اقدامات کیے۔

پی ٹی آئی پر شدید تنقید

احسن اقبال نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلی حکومت تاریخی تجارتی خسارہ چھوڑ کر گئی اور اپنے دور میں کوئی قابل ذکر ترقیاتی منصوبہ نہیں بنایا، پی ٹی آئی صرف دوسروں کو ’چور ڈاکو‘ کہتی رہی اور ملک کو عملی طور پر نقصان پہنچایا۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام بند کرانا ہو یا آرمی چیف پر تنقید کرنی ہو، تو ایک طرف بھارت ہوتا ہے اور دوسری طرف پی ٹی آئی۔

معاشی اعداد و شمار اور عالمی اعتماد

احسن اقبال نے بتایا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث افراط زر 4 فیصد تک آ چکا ہے اور پالیسی ریٹ 11 فیصد پر آ گیا ہے، جو معاشی بہتری کی علامت ہے، ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت ٹھوس بنیادوں پر ترقی کی بنیاد رکھ رہی ہے اور اس کے لیے ٹیکس ریونیو اور برآمدات میں اضافہ ضروری ہے۔

’ہمیں پی ٹی آئی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، عالمی ادارے خود پاکستان کی ترقی کی گواہی دے رہے ہیں۔‘

ترقیاتی بجٹ میں شدید کمی

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ 10 سال کے دوران ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس کے برعکس وفاقی ترقیاتی بجٹ میں شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے، وسائل کی کمی اور بڑھتے ہوئے حکومتی اخراجات کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز محدود ہو چکے ہیں۔

احسن اقبال نے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2017-18 میں وفاقی ترقیاتی بجٹ جی ڈی پی کا 2.

6 فیصد تھا، جو اب ایک فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے، جو ترقی کے عمل پر منفی اثر ڈال رہا ہے، حکومت کو ترقیاتی فنڈز میں اضافہ کرنے اور وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط بہتر ہو ئے ہیں، ایسی ترقی چاہتے ہیں جو وسائل سے جڑی ہو، اڑان پاکستان کے ذریعے آگے بڑھ رہے ہیں، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کیں اوربجلی کے نرخ کم کیے، قومی ترقیاتی بجٹ دو سال میں 60 فیصد بڑھ کر 4 ہزار 224 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
مزیدپڑھیں:’پاکستان میں شاہانہ پروٹوکول، لندن میں بیگ خود اٹھانا پڑ رہا ہے‘، بلاول بھٹو کی ویڈیو پر صارفین کے تبصرے

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ احسن اقبال نے ترقیاتی بجٹ پی ٹی آئی ترقی کی نے کہا کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد