گیارہ کھرب کے وسائل ، 8 کھرب قرض ادائیگی، باقی دفاع میں خرچ ہونگے، احسن اقبال WhatsAppFacebookTwitter 0 12 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کا قومی ترقیاتی پلان 4200 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو ڈیفالٹ سے بچا کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا گیا ہے۔ حکومت نے موجودہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کو بھرپور ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیے قومی ترقیاتی پلان 4200 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جو کہ پچھلے 2 برس میں 50 فیصد اضافہ ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ جب مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کی حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک اندرونی طور پر ڈیفالٹ کر چکا تھا۔ پی ٹی آئی حکومت نے وزارت خزانہ کو ترقیاتی بجٹ کی قسط روکنے پر مجبور کیا تھا، جو ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ پی ڈی ایم حکومت نے نہ صرف ڈوبتی معیشت کو سہارا دیا بلکہ سیلاب جیسی آفت کا بھی مثر انداز میں سامنا کیا۔انہوں نے کہا کہ شرح سود کو 23 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد پر لایا گیا ہے جب کہ افراط زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے عالمی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی موجودہ معاشی کارکردگی کو معجزہ قرار دے رہے ہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اگرچہ پی ایس ڈی پی کی مالیت کچھ کم ہے، مگر ترقیاتی اہداف بڑھے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے لیے 230 ارب روپے، کراچی-چمن شاہراہ کے لیے 100 ارب روپے اور ایم-8 منصوبہ بجٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کو ترجیح دی جا رہی ہے، جو مجموعی طور پر 7 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جب کہ دیامر بھاشا ڈیم 2030 تک مکمل ہوگا۔ سکھر حیدر آباد موٹروے ہماری ترجیح ہے۔ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر اضافے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کے منفی پروپیگنڈے کے باوجود ملک کا ساتھ دیا۔احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی حکومت کی فسکل اسپیس سکڑ رہی ہے۔ فسکل اسپیس سکڑنے سے ترقیاتی بجٹ سکڑ کر 0.

8 فیصد پر آگیا ہے۔ قومی سطح پر ترقیاتی اخراجات کم ہونا تشویشناک ہے۔ وفاقی حکومت کے حصے میں اب 11 کھرب کے وسائل بچیں گے۔ تقریبا سوا 8 کھرب قرضوں کی ادائیگی میں چلے جائیں گے۔ بقیہ پیسے دفاع کے اخراجات میں خرچ ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے بارودی سرنگیں بچھائی تھیں۔

4 سالوں میں پی ٹی آئی نے کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں بنایا۔ سی پیک کے منصوبوں کو نشانہ اور لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کا کام کیا۔ پی ٹی آئی کے لیڈرز اور کارکنوں کے بیان دیکھنے ہیں تو 6 مئی سے پہلے دیکھیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 10 مئی کو ثابت ہوا پاکستان کی مسلح افواج چوکس ادارہ ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دلیرانہ قیادت کا مظاہرہ کیا۔ آج ہندوستان ایک طرف اپنی شکست کے زخم چاٹ رہا ہے۔ امریکا نے سپہ سالار کو دورے دعوت دی ہے اور پی ٹی آئی سپہ سالار کے امریکا کے دورے پر احتجاج کا اعلان کررہی ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی اور دوسری طرف ہندوستان ہے جو سپہ سالار کے خلاف ہیں۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر احسن اقبال نے کہا کہ بھارت کی آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور پاکستان کے پانی پر کسی قسم کی پابندی یا روک کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھارت کی ہر سازش کا مقابلہ کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر’’جیانگ سو سپر لیگ‘‘ ، کھیل اور معیشت کا بہترین امتزاج مغرب کوکس نے حق دیا کہ وہ جوہری پروگرام رول بیک کامطالبہ کرے: مسعود پزشکیان اسرائیلی حملوں میں مزید 60 فلسطینی شہید، امدادی مراکز بھی نشانہ بننے لگے ایئر انڈیا طیارہ حادثہ: بوئنگ کمپنی کے شیئرز میں بڑی گراوٹ آگئی لاس اینجلس میں پرتشدد واقعات کے پیچھے امریکی صدر اور گورنر کیلیفورنیا کی مخالفت ہے ، محمد عارف اسلام آباد ہائی کورٹ: عدالتی حکم کے باوجود شیشہ کیفے سیل کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر کو نوٹس، 7 روز میں وضاحت طلب بھارتی جارحیت کے دوران ترکیہ نے ایک سچے اور مضبوط دوست کا کردار ادا کیا جسے پاکستان ہمیشہ یاد رکھے گا، سینیٹر عرفان صدیقی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی وزیر پی ٹی آئی ارب روپے حکومت نے انہوں نے کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا