اڈیالہ جیل میں کم عمر قیدی کواجتماعی زیادتی کےبعد قتل کرنےوالے 4 مجرمان کومرنے تک پھانسی دینے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں کم عمر قیدی کو جبری اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے والے چار قیدیوں کو عدالت نے 2، 2 بار سزائے موت کا حکم دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق روالپنڈی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے اڈیالہ جیل میں کم عمر قیدی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے کیس کا فیصلہ دلائل مکمل ہونے کے بعد جاری کردیا۔
پولیس کے مطابق مجرمان نقاش، وقاص، بلال اور آصف نے اڈیالہ جیل میں قیدی بچے سے جبری اجتماعی زیادتی کی اور پھر کپڑوں سے گلے میں پھندا ڈال کر اُسے بے دردی سے قتل کردیا تھا۔
سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کی مدعیت میں چاروں مجرمان خلاف تھانہ صدر بیرونی نے جنوری2024 میں مقدمہ درج کیا۔
عدالت نے4 قیدی مجرمان کو 2،2 مرتبہ سزائے موت اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی۔
فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ چاروں مجرمان کو اس وقت تک پھانسی پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت نہ ہو۔ عدالتی فیصلے کے مطابق مجرمان نے اڈیالہ جیل میں قیدی کم عمر بچے کے ساتھ سفاکیت کی۔
عدالت کی جانب سے اجتماعی زیادتی جرم میں چاروں کو ایک ایک بار پھانسی قتل جرم میں بھی ایک ایک بار پھانسی سزا دی گئی۔
عدالتی فیصلے کے بعد چاروں مجرمان کو گرفتار کر کے جیل منتقل کردیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اجتماعی زیادتی اڈیالہ جیل میں مجرمان کو
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔