علامہ مقصود ڈومکی کی ڈی سی جیکب آباد سے ملاقات، محرم سے متعلق گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
ڈی سی جیکب آباد سے ملاقات کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ رضاکار اور اسکاؤٹس حسب روایت پولیس و رینجرز کیساتھ عزاداری کے پروگراموں میں مکمل تعاون کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر جیکب آباد نواب سمیر حسین لغاری سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں ضلع میں امن و امان کی صورتحال، محرم الحرام کی آمد اور عزاداری کے اجتماعات کے سکیورٹی انتظامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں مجلس وحدت مسلمین ضلع جیکب آباد کے صدر نذیر حسین جعفری، صدر یوتھ ونگ سید کامران علی شاہ، مجلس علمائے مکتب اہل بیت کے ضلعی صدر علامہ سیف علی ڈومکی، آل ڈومکی اتحاد کے وائس چیئرمین حاجی شاہ مراد ڈومکی، مظفر علی ٹالانی، زوار غلام مصطفی، جعفریہ الائنس کے ڈویژن جنرل سیکرٹری شاہنواز جعفری اور دیگر ذمہ داران شامل تھے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ضلع جیکب آباد میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال تشویشناک ہے۔ نوجوانوں سے موٹر سائیکل اور موبائل فون چھینے جا رہے ہیں۔ ماہ محرم سے قبل مؤثر سکیورٹی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ عوام خصوصاً عزادار خود کو محفوظ محسوس کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ رضاکار اور اسکاؤٹس حسب روایت پولیس و رینجرز کے ساتھ عزاداری کے پروگراموں میں مکمل تعاون کریں گے۔ پولیس ہیڈکوارٹر میں حسب روایت اسکاؤٹس کے لئے پروگرام ہر سال کی طرح اس سال بھی پولیس کی زیرنگرانی رکھا جائے۔ خواتین کی مجالس عزاء میں سکیورٹی کے لئے لیڈیز پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے۔ محکمہ پولیس مزید لیڈی کانسٹیبلز بھرتی کرے تاکہ خواتین کے اجتماعات میں مؤثر سکیورٹی فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ضریح پاک امام حسین علیہ السلام کے حوالے سے سابق ڈپٹی کمشنر کا تحریری وعدہ تھا، اس پر عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مجلس وحدت مسلمین ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون پر یقین رکھتی ہے۔ قیام امن ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نواب سمیر حسین لغاری نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور عوام کا باہمی تعاون ہی ضلع میں امن و امان کی ضمانت ہے۔ تحصیل اور سب ڈویژن کی سطح پر تمام ذمہ داران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بانیان مجالس، عزاداروں اور دینی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں۔ انتظامیہ عزاداری کے اجتماعات کی سکیورٹی اور دیگر انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے عزاداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود عزاداری کے جیکب آباد کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔