جو تنخواہ نہ لینا افورڈ کر سکتے ان کا لینا زیادتی: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی انٹرویو میں کہا ہے کہ سپیکر ڈپٹی سپیکر، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی بے تحاشا تنخواہوں میں اضافے کا کوئی لمبا چوڑا اثر معیشت پر نہیں ہو گا لیکن یہ بات ریفلیکٹ کرتی ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ اندر کی فنانس کمیٹی کرتی ہے، اس فیصلے کی مزاحمت کی گئی لیکن پھر بھی یہ فیصلہ لیا گیا، یہ اضافہ بجٹ کا حصہ نہیں وزیراعظم تنخواہ نہیں لیتے وہ اپنے پلے سے کھاتے اور ملازمین کو بھی تنخواہ اپنے پاس سے دیتے ہیں جو تنخواہ نہ لینا افورڈ کر سکتے ہیں پھر بھی 21 لاکھ روپے تنخواہ لے رہے ہیں، یہ زیادتی ہے۔ ایران سے ہمارا مذہب کے علاوہ نسلی رشتہ بھی ہے۔ عالم اسلام کو کہیں تو متحد ہوکر اسرائیل کو جواب دینا چاہئے۔ میرا ایمان ہے کہ اسرائیل کے حملے کے جواب میں ہمیں کوئی قیامت تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا، یہیں پر بدلہ ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔