اسرائیل نے ملک بھر میں خصوصی ہنگامی حالت نافذ کر دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
TEL AVIV:
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے ایران پر پیشگی فضائی حملے کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں خصوصی ہنگامی حالت" نافذ کر دی ہے۔
حکام کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کا خطرہ فوری طور پر موجود ہے۔
اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج صبح 3 بجے (مقامی وقت کے مطابق) سے شہریوں کے لیے ’ ہوم فرنٹ کمانڈ گائیڈ لائنز ‘ میں تبدیلی کی گئی ہے، جس کے تحت ملک بھر میں سرگرمیوں کا دائرہ محدود کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی حکومت نے ملک میں تمام تعلیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے، عوامی اجتماعات اور غیر ضروری دفاتر کو بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، صرف بنیادی اور ضروری شعبے سرگرم رہیں گے۔
یروشلم میں رات تین بجے کے قریب سائرن کی آوازوں اور موبائل فون الرٹس کے ذریعے شہریوں کو خطرے سے آگاہ کیا گیا جس کے بعد خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی۔
وزیر دفاع اسرائیل کاٹس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہوم فرنٹ کمانڈ اور دیگر حکام کی ہدایات پر مکمل عمل کریں اور فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست اسرائیل کے ایران پر پیشگی حملے کے بعد ایران کی جانب سے ہمارے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے کا فوری خطرہ موجود ہے، جس کے پیش نظر یہ خصوصی ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔