اٹلی کا غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ، شہریوں کی مدد کیلیے مصر و قطر سے رابطے
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روم: اٹلی نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور بمباری روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شہریوں کی مدد کے لیے مصر اور قطر کے ساتھ مشترکہ کوششوں کا اعلان کیا ہے جبکہ نیٹو کے دفاعی اخراجات کے ہدف پر بھی لچک کا عندیہ دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے روم میں ہونے والے ویمر پلس اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارا پیغام واضح ہے، ہمیں جنگ روکنی ہے، مصر، قطر کے ساتھ مل کر ہم شہری آبادی کی مدد کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، ہمارا ہدف جنگ بندی ہے۔
انتونیو تاجانی نے مزید کہا کہ نیٹو کے دفاعی اخراجات کے 5 فیصد جی ڈی پی کے ہدف کے حوالے سے اٹلی پرعزم ہے، تاہم اس کے لیے وقت درکار ہوگا، ہم معاہدے کے لیے کوشاں ہیں، لچک اور وقت دونوں اہم ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نیٹو کو مضبوط بنانے اور یورپ کو مستحکم کرنے کے لیے معاہدہ ممکن ہے۔
یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری سے انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جس پر عالمی برادری کی جانب سے مسلسل جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔