اسرائیل کاایرانی شہر تبریز اور شیراز پر تازہ ترین حملے، ائیربیسز کو نشانہ بنایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
تبریز(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13جون 2025)ایران پر اسرائیل کی جانب سے تازہ حملے شروع ہوگئے،اسرائیل نے ایران کے شہر تبریز اور شیراز پر تازہ ترین حملے کر دئیے جن میں ائیر بیسز کو نشانہ بنایاگیاہے،ایرانی میڈیا نے اسرائیلی حملوں کی ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں حملوں کے مقام سے دھواں اٹھتا دکھائی دے رہا ہے،ایرانی میڈیا کا کہنا ہے اسرائیل نے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے جس میں ایرانی شہر تبریز اور شیراز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی کی جانب سے تازہ حملے تبریز سمیت ملک شمالی علاقوں پر حملے کئے گئے جن میں تبریز میں ایئرپورٹ اورایئربیس کونشانہ بنایا گیا ہے۔تازہ حملے میں تبریز ائرپورٹ اور شیراز کو نشانہ بنایا گیا اور وہاں دھوئیں کے بادل اٹھتے نظر آرہے ہیں۔(جاری ہے)
دوسری جانب پریس ٹی وی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیوز میں نطنز (اصفہان) میں اسرائیلی میزائل حملے کے مناظر اور دھماکوں کے بعد اٹھتے ہوئے دھوئیں کے بادل نمایاں طور پر دکھائے گئے ہیں۔
برطانوی میڈیا نے ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں دو سینئر جوہری سائنسدان مارے گئے جن کی شناخت کر لی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں سے ایک ڈاکٹر فریدون عباسی ہیں جو ایرانی ایٹمی توانائی ادارے (AEOI) کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔ یہ ادارہ ایران کی جوہری تنصیبات کا ذمہ دار ہے۔ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کا نشانہ عام شہری علاقوں کو بنایا گیا جہاں خواتین اور بچوں کی لاشیں دیکھی گئی ہیں۔تباہ شدہ رہائشی عمارتوں کی تصاویر سرکاری ٹی وی اور عینی شاہدین کی رپورٹوں میں بھی نشر کی گئی ہیں۔قبل ازیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل سخت سزا کا انتظار کرے۔خامنہ ای نے ایرانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ صیہونی ریاست نے ہماری سرزمین کیخلاف گھناؤنا جرم کیا تھا۔رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا کر اپنی بدنما فطرت کااظہار کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے۔ اللہ نے چاہا تو ایران کی مسلح افواج کے مضبوط بازو اسرائیل کو سزا دئیے بغیر نہیں رکیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نشانہ بنایا گیا کو نشانہ بنایا اور شیراز ہے ایرانی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔