فاٹا اور پاٹا پر وفاقی ٹیکس نہیں مانیں گے، خیبر پختونخوا حکومت کا دوٹوک اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کی جانب سے فاٹا اور پاٹا پر مجوزہ ٹیکس عائد کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت ایسے کسی ٹیکس کی وصولی میں معاونت نہیں کرے گی بلکہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔
صوبائی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ فاٹا اور پاٹا کے عوام پہلے ہی دہشت گردی، پسماندگی اور بے توجہی کا شکار رہے ہیں، اب ان پر ٹیکس عائد کرنا ظلم کے مترادف ہو گا، خیبر پختونخوا حکومت ایسے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتی ہے اور اپنی عوام کے حق میں بھرپور آواز اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا بجٹ دھوکہ ہے اور محض الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے، جس میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت اپنی مالی خودمختاری اور عوام کے بنیادی حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جائے گی۔
وزیراعلیٰ کے پی کے نے مزید کہا کہ گورنر کو آئینی طور پر اسمبلی اجلاس بلانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے اجلاس کی سمری نہیں بھیجی، جو ایک آئینی ذمہ داری سے انحراف ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف سازش 9 مئی سے شروع ہوئی تھی اور یہ تاحال جاری ہے۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی تنقید کو خوش آمدید کہیں گے اور ان کی مثبت تجاویز پر غور کیا جائے گا، تاہم اپوزیشن کو بھی سنجیدگی کے ساتھ عوامی مفاد کی بات کرنی چاہیے، بجٹ جیسے اہم قومی معاملے پر بانی جماعت سے مشاورت ناگزیر ہے، لیکن ابھی تک ہمیں ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ملاقات نہ کرائی گئی تو اس کے تمام تر نتائج اور ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔
علی امین گنڈاپور کا دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہاکہ وفاق کے خلاف سخت لہجہ اور فاٹا و پاٹا کے عوام کے حق میں کھڑا ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اب محض بیانات پر اکتفا نہیں کرے گی بلکہ عملی مزاحمت کی راہ اپنانے کو تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا انہوں نے
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔