وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور—فائل فوٹو

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے فاٹا اور پاٹا پر وفاقی حکومت کا ٹیکس ماننے سے انکار کر دیا۔

پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس شروع ہوا، جس کے آغاز ہی سے اپوزیشن اراکین نے شور شرابہ شروع کر دیا اور اسپیکر ڈائس کے سامنے آ کر احتجاج کیا۔

اجلاس سے خطاب میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اپوزیشن کو حق ہے کہ اپنی تجویز پیش کرے، ہمارے گورنر کو آئینی طور پر اسمبلی اجلاس بلانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر نے اجلاس کی سمری نہیں بھیجی، تحریکِ انصاف کے خلاف سازش 9 مئی سے شروع ہے۔

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاقی حکومت کا بجٹ دھوکا ہے، ہم فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس نہیں مانیں گے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ایسے کسی ٹیکس کی وصولی میں ہماری حکومت معاونت نہیں کرے گی، اس میں ہم رکاوٹیں ڈالیں گے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی سے بجٹ پر مشاورت کرنا لازمی ہے، ابھی تک بانیٔ پی ٹی آئی سے ہماری ملاقات نہیں کرائی گئی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہمیں ملاقات کے لیے نہیں چھوڑا تو تمام ذمے داری وفاق پر ہو گی، میں نے بہت بجٹ دیکھے اور سارے حکومت والی طرف سے دیکھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور خیبر پختونخوا نے کہا کہ

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن