سہیل آفریدی نے کابینہ کا اعلان کردیا، کون کون شامل ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے ارکان کا اعلان کردیا ہے۔ نئی کابینہ میں وزرا، مشیر اور معاونِ خصوصی شامل ہیں، جو مجموعی طور پر 13 اراکین پر مشتمل ہے۔
وزیراعلیٰ آفس کے مطابق کابینہ میں 10 وزرا، 2 مشیر اور ایک معاونِ خصوصی شامل ہیں۔ وزرا میں مینا خان آفریدی، ارشد ایوب خان، امجد علی، آفتاب عالم خان، فضل شکور خان، خلیق الرحمٰن، ریاض خان، سید فخر جہاں، عاقب اللہ خان اور فیصل خان شامل ہیں۔
کابینہ کا اعلان چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر کیا گیا ہے، جبکہ مشیر میں مزمل اسلم اور تاج محمد کے نام شامل کیے گئے ہیں، اور شفیع جان کو معاونِ خصوصی برائے وزیراعلیٰ مقرر کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ نفسیاتی مسئلہ ہے، انہیں ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے، رانا ثنااللہ
سہیل آفریدی نے کابینہ میں زیادہ تر وہی چہرے شامل کیے ہیں جو سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کابینہ کا حصہ تھے، تاہم چند نئے ارکان کو بھی موقع دیا گیا ہے۔
کابینہ میں منتخب اراکین اسمبلی کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ صرف ایک غیر منتخب رہنما مزمل اسلم کو شامل کیا گیا ہے، جو علی امین کابینہ میں مشیرِ خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
جبکہ کابینہ میں سابق مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح علی امین گنڈاپور کی جانب سے حال ہی میں برطرف کیے گئے شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی اور سابق اسپیکر اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ خان کو بھی نئی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پشاور میں سڑک بند، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پیدل چلتے ہوئے اسکول کے بچوں سے ہاتھ ملاتے ویڈیو وائرل
نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب آج گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کابینہ میں زیادہ تر پرانے چہرے ہی شامل ہیں، جبکہ خواتین کو نمائندگی نہیں دی گئی اور کوئی خاتون رکن کابینہ کا حصہ نہیں بن سکی۔
سہیل آفریدی نے تمام اضلاع سے اراکین کو کابینہ میں شامل کرکے اور غیر منتخب افراد کی جگہ منتخب اراکین کو ترجیح دے کر سیاسی توازن برقرار رکھنے اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیئرمین عمران خان کابینہ محمد سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیئرمین عمران خان کابینہ محمد سہیل آفریدی وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کابینہ میں کیا گیا ہے کابینہ کا شامل ہیں
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔